لاہور میں پیپلز پارٹی تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل سیاسی حلقوں کی طرف سے اہم پیشرفت قرار

لاہور (میاں ذیشان) پاکستان پیپلز پارٹی لاہور نے گزشتہ دو برسوں کے دوران تنظیمی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل، عوامی رابطہ مہم اور کارکنوں کی متحرک شمولیت کے ذریعے صوبائی دارالحکومت میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر وسعت دیتے ہوئے آئندہ بلدیاتی انتخابات کی تیاری کو منظم بنیادوں پر استوار کیا ہے جسے سیاسی حلقے لاہور میں جماعت کی دوبارہ فعال موجودگی کی ایک اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔ پارٹی ذرائع اور لاہور ڈویژن کی سرکاری تنظیمی معلومات کے مطابق پارٹی نے لاہور کے تمام 10 تحصیلوں، 34 تنظیمی زونز اور 433 یونین کونسلوں پر مشتمل تنظیمی ڈھانچہ فعال کیا ہے جبکہ شہر بھر میں 66 ہزار 500 سے زائد رجسٹرڈ اراکین کا ڈیٹا بھی مرتب کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں ضلعی، ٹاﺅن، زون اور یونین کونسل کی سطح پر مرحلہ وار تنظیم سازی کے دوران سینکڑوں تنظیمی عہدیداروں کو ذمہ داریاں سونپی گئیں، جن میں ٹاﺅن اور زون کابینہ کے عہدے، یونین کونسل تنظیمیں اور مختلف ذیلی ونگز شامل ہیں، جبکہ خواتین، یوتھ، طلبہ، لیبر، اقلیتی اور وکلاءسمیت 13 اتحادی ونگز کو بھی ازسرنو فعال کیا گیا۔ اسی عرصے کے دوران لاہور کے مختلف علاقوں میں درجنوں ورکرز کنونشنز، کارنر میٹنگز، احتجاجی مظاہروں، ریلیوں، عوامی رابطہ مہمات، رکنیت سازی کی سرگرمیوں اور سیاسی اجتماعات کا انعقاد کیا گیا جن میں پارٹی قیادت، صدر لاہور فیصل میر اور دیگر رہنماﺅں نے کارکنوں سے براہ راست رابطہ رکھا۔ حالیہ مہینوں میں مینارِ پاکستان جلسے کی تیاری کیلئے 33 خصوصی کمیٹیاں قائم کی گئیں جبکہ شہر کے تمام ٹاﺅنز میں رکنیت سازی اور انتخابی نیٹ ورک کو مزید مضبوط بنانے کی مہم بھی شروع کی گئی۔ پارٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر ہر یونین کونسل میں انتخابی کمیٹیاں، پولنگ اسٹیشن سطح کے رضاکار، ووٹر ڈیٹا کی اپ ڈیٹ، امیدواروں کی ابتدائی جانچ پڑتال، انتخابی تربیتی نشستوں اور گھر گھر رابطہ مہم کا منصوبہ بھی تیار کیا جا چکا ہے تاکہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی بھرپور مہم کا آغاز کیا جا سکے۔ لاہور میں پارٹی کی حکمت عملی صرف روایتی جلسوں تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل ممبرشپ، سوشل میڈیا رابطے، نوجوانوں کی شمولیت اور مقامی سطح پر تنظیمی ڈھانچے کو فعال بنانے پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ پارٹی رہنماﺅں کا کہنا ہے کہ مضبوط تنظیم، فعال کارکن اور مسلسل عوامی رابطہ ہی آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بہتر انتخابی نتائج کی بنیاد بنیں گے، جبکہ سیاسی مبصرین بھی لاہور میں پیپلز پارٹی کی حالیہ تنظیمی سرگرمیوں کو جماعت کی سیاسی بحالی کی سنجیدہ کوشش قرار دے رہے ہیں۔