حکومتی ریلیف کے دعوے حقائق کے منافی، کاروبار کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوچکا :تاجر

لاہور (خصوصی رپورٹ: نعیم جاوید) وفاقی بجٹ 2026-27ءاور پنجاب کے حالیہ بجٹ پر چھوٹے تاجروں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتوں نے ریلیف کے دعوے تو کئے ہیں لیکن زمینی حقائق میں کاروبار کرنا پہلے سے زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ چھوٹے دکانداروں، کریانہ فروشوں، گارمنٹس، الیکٹرانکس اور جنرل سٹور مالکان کا کہنا ہے کہ بڑھتی مہنگائی، بجلی و گیس کے نرخوں، کرایوں اور ٹیکسوں کے بوجھ نے ان کے منافع کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ بجٹ میں ان کے مسائل کے حل کیلئے خاطر خواہ اقدامات نظر نہیں آتے لاہور کی مختلف مارکیٹوں میں کیے گئے سروے کے دوران تاجروں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں ٹیکس نیٹ کو مزید وسعت دینے اور محصولات کے اہداف بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے، تاہم حکومت نے چھوٹے کاروباروں کو سہولت دینے کیلئے کوئی واضح پیکیج متعارف نہیں کرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بعض شعبوں میں ٹیکس رعایتوں کا اعلان کیا گیا ہے لیکن اس کے اثرات عام دکاندار تک پہنچتے دکھائی نہیں دیتے انجمن تاجران کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں عوامی قوتِ خرید بڑھانے کیلئے مو¿ثر اقدامات نہ ہونے کے باعث مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں مزید متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران صارفین کی خریداری میں نمایاں کمی آئی ہے اور اب بھی حالات میں بہتری کے آثار دکھائی نہیں دیتے چھوٹے تاجروں نے پنجاب حکومت کے بجٹ کو نسبتاً بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئے ٹیکس نہ لگانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، تاہم صرف ٹیکس نہ لگانا کافی نہیں بلکہ کاروباری لاگت کم کرنے کیلئے عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو مارکیٹ انفراسٹرکچر، پارکنگ، سکیورٹی اور کاروباری سہولتوں پر مزید توجہ دینی چاہیے تاکہ چھوٹے کاروبار ترقی کر سکیں۔ پنجاب حکومت نے اپنے بجٹ کو”ٹیکس فری“ قرار دیا ہے اور نئے ٹیکسوں سے گریز کیا ہے کریانہ مرچنٹس کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بالواسطہ ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافہ جاری رہا تو اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس کا براہ راست اثر عوام اور چھوٹے کاروبار دونوں پر پڑے گا۔ ان کے مطابق صارفین پہلے ہی محدود خریداری کر رہے ہیں اور مزید مہنگائی کاروباری حجم میں کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ گارمنٹس اور جوتوں کے کاروبار سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کیلئے آسان قرضوں، کم شرح سود اور ٹیکس قوانین میں سادگی لانے کی ضرورت ہے۔ ان کا مو¿قف تھا کہ پیچیدہ ٹیکس نظام اور بار بار کی دستاویزی شرائط چھوٹے تاجروں کیلئے مشکلات پیدا کرتی ہیںدوسری جانب بعض تاجروں نے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے بعض ٹیکس رعایتوں اور کاروباری شعبے کیلئے چند مثبت اقدامات کا خیر مقدم کیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر بجٹ میں کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے زیادہ جامع حکمت عملی درکار ہے چھوٹے تاجروں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ وفاقی اور پنجاب دونوں بجٹوں کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوگا کہ آیا عام شہری کی قوت خرید میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق اگر عوام کے پاس خرچ کرنے کیلئے زیادہ آمدن نہ ہوئی تو مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیوں کی بحالی مشکل رہے گی اور بجٹ کے اعلانات صرف کاغذی دعوے بن کر رہ جائیں گے۔