حضرت داتا گنج بخشؒ کی تعلیمات نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھائی : علماءکرام

لاہور (قاضی ندیم اقبال) اسلام کی دینی،ملی، سماجی اورمعاشرتی تاریخ میں اولیاءعظام و صوفیاءکرام نے اپنی تعلیمات سے معاشرے کا رخ روحانیت،اصلاح و فلاح اور تعمیر و ترقی کی طرف موڑنے میں زبردست کردار ادا کیا۔برصغیر پاک و ہند میں ان کا یہ کردار اور بھی قابل ذکر اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ بلاشبہ حضرت علی بن عثمان ہجویری المعروف حضرت داتا گنج بخش ایسے ہی جلیل القدر بزرگ ہیں، جن کی تعلیمات نے ہزار ہا بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست دکھائی،آپ کے علم و فضل اور تعلیمات کا فیض آج تک جاری ہے۔ان خیالات کا اظہار حکومت پنجاب کے واحد ماڈل مدرسہ ”جامعہ ہجویریہ“ مرکز معارف اولیاءکے اساتذہ کرام نے ”مشرق“ سے گفتگو میں کیا۔پرنسپل جامعہ ہجویریہ مفتی رمضان سیالوی نے”مشرق“ سے دوران گفتگو کہا کہ اولیائے کرام کا پیغام دینی تعلیمات کی تبلیغ کے ساتھ ساتھ انسانیت کے احترام کی تلقین کرتا ہے۔ انسانیت کی خدمت اور ایثار و قربانی کا یہی پیغام حضرت داتا گنج بخش ؒ کی تعلیمات کا بنیادی جزو ہے۔ نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر کے انسان حضرت داتا گنج بخش ؒ کے علوم و فیوض اور تعلیمات سے مستفید ہو رہے ہیں۔آج امت مسلمہ ہر طرف سے، جس نوعیت کے مصائب ومشکلات کا شکار ہے،ان حالات میں اشد ضروری ہے کہ حضرت داتا گنج بخش ؒ کے حیات بخش فرمودات اور ان انقلاب آفرین تعلیمات سے روشنی حاصل کی جائے، جو زندگی کو عمل، حرکت اور جہد مسلسل سے مزین کرنے اور ایک روشن اوربلند نصب العین سے منور کرنے کا پیغام دے رہی۔ جامعہ ہجویریہ کے سابق پرنسپل علامہ بد ر الزمان قادری نے ”مشرق“ سے گفتگو میں کہا کہ آپ کی مقبول اہم اور گراں قدر تصنیف’ ’کشف المحجوب، قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی تصوف کا مثالی دستور اور حکمت ومعرفت کی روشن قندیل ہے۔“جو قلب انسانی کو متاثر کرنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔آپ کی تعلیمات کا نچوڑ اس میں موجود ہے۔آپ نے نہایت اختصار کے ساتھ شریعت مطہرہ کے مسائل کو اس میں واضح کیا ہے کیونکہ شریعت پر عمل کے بغیر کوئی عالم صحیح معنوں میں عالم نہیں بن سکتا اور کوئی صوفی صحیح معنوں میں صوفی نہیں بن سکتا،جب تک وہ قرآن و سنت اور شریعت پر عامل نہ ہو۔ وائس پرنسپل جامعہ ہجویریہ علامہ ریاض احمد چشتی نے”مشرق“ سے گفتگو میں کہا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ نے ایک ہاتھ میں شریعت اور ایک میں طریقت،ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سنت کو تھامنے کی تلقین فرمائی،اسی پر کاربند رہنا امت مسلمہ کیلئے فلاح دارین کی ضمانت ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ کا نظریہ اخلاق وتصوف دین و شریعت کی توقیر اور ترویج پر یقین رکھتا ہے۔جامعہ ہجویریہ میں اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق جدیدعلوم کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔حضرت داتا گنج بخش ؒنے لوگوں کے سیرت وکردار کو اسلامی منہج کے مطابق آراستہ کیا۔استاذ العلماءمفتی صدیق ہزاروری نے ”مشرق“ سے گفتگو میں کہا کہ جدید عہد کے تناظر میں صاحبان محراب و منبر، اصحاب سجادہ و ارباب مسند تدریس کو اخلاص، محبت، رواداری، انسان دوستی اور تحمل و برداشت جیسے جذبوں سے سرشار ہونے کی اشد ضرورت ہے جس کیلئے حضرت داتا گنج بخشؒ کا وضع کردہ ، صوفیانہ انداز فکر و عمل اپنانا وقت کا اہم تقاضا ہے، تاکہ موجودہ دور میں افتراک، انتشار، انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے مفاسد کا قلع قمع ممکن ہو سکے۔ابو الخیر زوار حسین نعیمی الزہری نے”مشرق‘ سے گفتگو میں کہا کہ داتا گنج بخشؒ کے علم و فضل،حسن سلوک،مذہبی رواداری،خدمت خلق اور سماجی خدمات نے خطے میں ایک انقلاب برپا کیا،لوگ جوق درجوق اسلام میں داخل ہوئے۔ اسلام کو فروغ حاصل ہوا۔ آپ کا نام ہندوستان کے علاوہ عراق و عجم، اور خراسان وایران بلکہ پوری دنیا میں مشہور ہوا، اس کی وجہ یہی ہے کہ آپ نے اپنی قابل قدر تصنیفات،اپنے علم و فضل اپنی عملی زندگی اور اپنے اعلیٰ ٰ اخلاق حمیدہ سے ایک عالم پر اپنا سکہ بٹھایا۔نائب خطیب جامع مسجدداتا دربار مفتی فیصل جماعتی نے”مشرق“ سے دوران گفتگو کہا کہ حضرت داتا گنج بخشؒ کی زندگی اسلامی سیرت کا ایسا عمدہ نمونہ تھی جس میں کسب علم، تہذیب نفس، تبلیغ اسلام اور اصلاح معاشرہ جیسے عمدہ محاسن اور اعلی مقاصد نہایت آب و تاب کے ساتھ چمک رہے ہیں، آپ نے آذر بائیجان، خراسان، ترکستان، شام، عراق، خوارستان، گرگان، فارس جیسے سنگلاخ اور دور افتادہ علاقوں کے سفر کر کے تحصیل علم، اکتساب فیض اور حصول مقصد کیلئے ،سخت کوشی، محنت، ریاضت،اخلاص،لگن اور توجہ جیسے بنیادی انسانی خصائص کو بروئے کار لانے کے عملی مظاہر دنیا کے سامنے پیش کئے۔