مریم نواز کی طرز حکمرانی دنیا میں توجہ کا مرکز ہے: پیر اشرف رسول

لاہور (میاں ساجد) چیئرمین لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ پنجاب، جنرل سیکرٹری مسلم لیگ (ن) لاہور ڈو یژن اور رکن صوبائی اسمبلی پیر اشرف رسول نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی وزارتِ اعلیٰ اور ان کی طرزِ حکمرانی بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے جو صوبہ پنجاب کیلئے ایک اعزاز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کی پاسداری، قانون کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی کے معاملے میں وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کردار قابلِ ستائش ہے اور ان کے نزدیک اپنا اور پرایا سب قانون کی نظر میں برابر ہیں۔انہوں نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کاہنہ کے افسوسناک واقعے میں 14 بچوں کی شہادت پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہو کر نہ صرف ان سے اظہارِ تعزیت کیا بلکہ ان کے گھروں میں جا کر امدادی رقوم کے چیک خود حوالے کیے اور سوگوار خاندانوں، خصوصاً ماوں، کو دلاسہ دیا۔پیر اشرف رسول نے کہا کہ غیر ملکی خواتین سے متعلق سامنے آنے والے واقعہ کی اطلاعات ملتے ہی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فوری نوٹس لیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کیے۔ ان احکامات کی روشنی میں محکمہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کیا۔انہوں نے کہا کہ قانون کی نظر میں ہر شخص برابر ہے، خواہ وہ بااثر ہو یا عام شہری، اور جرم کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کا کردار اور عوامی خدمت کا جذبہ سب پر واضح ہے، اس لیے انہیں سیاسی بنیادوں پر غیر ملکی خواتین کے کیس سے جوڑنا حقائق کے منافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن یا سوشل میڈیا پر چلنے والی بے بنیاد مہمات کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کو اس کیس سے منسلک کرنا نامناسب، غیر ذمہ دارانہ اور غیر اخلاقی طرزِ عمل ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ پیر اشرف رسول نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس معاملے میں کسی بھی ملزم کو تحفظ دینے کے بجائے قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنانے کے احکامات دیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ نہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے کسی ملزم کی حمایت کی ہے اور نہ ہی کسی مجرم کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے بنیاد اور گردشی خبروں کے ذریعے وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کو اس کیس سے منسلک کرنا غیر مناسب ہے جس کی وہ سخت الفاظ میں تردید کرتے ہیں۔