کابل،اسلام آباد:(بیورورپورٹ،مشرق نیوز)پاکستان کی افغانستان میں انٹیلی جنس بیسڈ ائیرسٹرائیکس ،خوارج کے 7 مراکز تباہ،80سے زائد دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کے 3صوبوں میں کارروائیاں مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات پر کی گئیں،ننگرہار، پکتیکا ،خوست میں فتنہ الخوارج ،کالعدم ٹی ٹی پی کے 7 مراکز تباہ ،80 سے زائد خوارج ہلاک ہونے کی کنفرم اطلاع ہے،ننگر ہار 3، پکتیکا 2 اور خوست میں ایک مرکز کو نشانہ بنایا گیا،مراکز سے پاکستان کے اندر دہشتگرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی،بروقت کارروائی عمل میں لائی گئی۔
تباہ کیے گئے مراکز میں نیا مرکز نمبر ایک ننگرہار، نیا مرکز نمبر2 ننگرہار ،خارجی مولوی عباس مرکزخوست، خارجی اسلام مرکز ننگرہار ،خارجی ابراہیم مرکزننگرہار،خارجی ملارہبرمرکزپکتیکا اور خارجی مخلص یارمرکز پکتیکا شامل ہےں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیوں کا ہدف دہشتگرد کیمپ اور ٹھکانے تھے شہری آبادی نہیں،عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزامات جھوٹے ،گمراہ کن ہیں،کارروائی سے قبل نقصانات کم سے کم رکھنے کے اقدامات کیے،دہشتگرد اپنے ٹھکانوں کو مسجد یا مدرسہ قرار دے کر مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں،ماضی میں یہی عناصر مساجد، امام بارگاہوں ، عام شہریوں پر حملے کرتے رہے، پاکستان کی کارروائی افغانستان نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف تھی، اقدام دفاعی نوعیت کا انسداد دہشتگردی ردعمل ہے۔
پاکستان نے بارہا افغان حکام کو دہشتگرد پناہ گاہوں پر تحفظات سے آگاہ کیا، علاقائی خود مختاری کو سرحد پار دہشت گردی کی ڈھال نہیں بنایا جا سکتا، پاکستان داخلی سطح پر وسیع انسداد دہشت گردی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہے،2025 میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے،دہشتگردی کےخلاف مشترکہ، قابل تصدیق کارروائی ناگزیر ہے، پاکستان کشیدگی میں کمی چاہتا ہے مگر شہریوں کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزارت اطلاعات و نشریات نے کہاحالیہ خودکش حملوں میں افغانستان میں موجود دہشتگرد قیادت،سہولت کار ملوث ہیں، دہشتگردوں نے حال ہی میں اسلام آباد امام بارگاہ، باجوڑ ، بنوں میں کارروائیاں کیں،حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان، فتنہ الخوارج ،اتحادیوں نے قبول کی، ٹھوس شواہد موجود دہشتگردکارروائیاں افغانستان میں موجود قیادت کی ہدایات پر کی گئیں۔
اپنے بیان میں وزارت اطلاعات نے کہا پاکستان نے متعدد بار طالبان حکومت پر زور دیا اپنی سرزمین دہشتگرد تنظیموں ، پراکسی عناصر کے استعمال سے روکنے کیلئے قابل تصدیق اقدامات کرے مگر افغان عبوری حکومت موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی،پاکستان نے اپنی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے جوابی کارروائی کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر دہشتگردوں کے 7 کیمپس اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، خطے میں امن و استحکام کے خواہاں تاہم پاکستانی عوام کی سلامتی ترجیح ہے۔
وزارت اطلاعات نے کہاافغان عبوری حکومت ذمہ داریاں پوری کرے اور اپنی سرزمین دہشتگردی کیلئے استعمال ہونے سے روکے،عالمی برادری طالبان پر دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے پر زور دے۔
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے کہا افغانستان میں بروقت ، موثر کارروائی معصوم جانوں کا بدلہ ،پاک فضائیہ نے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا، پاکستان کےخلاف سازشوں کا جال بننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل گیا،ملکی سرزمین کمزور نہیں،شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی،صرف آپریشن نہیں بلکہ ہر اس ماں کے آنسووں کا جواب تھا جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا۔
طارق فضل چودھری نے کہا پاکستان کو کمز ور سمجھنے کی غلطی کرنےوالایاد رکھے امن کے خواہاں ضرور ہیں مگر اپنی سرزمین، عوام اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے،پاکستان کے ایک ایک انچ کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گا، ریاست پر اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو مٹا دینگے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری نے کہا افغانستان کے اندر جوابی کارروائی میں درجنوں دہشتگرد مارے گئے،پاکستان اپنے لوگوں کے جان ومال کی تحفظ کےلئے ہرطرح کی کارروائی کرر ہا ہے،افغانستان میں کارروائی 3 مختلف مقامات پر7جگہوں پر کی گئی ،بہت سارے شواہد موجود ہیں زیادہ تر ہلاک دہشتگردوں کی شناخت پاکستان کی تھی۔
پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے،خوارج کے 7 مراکز تباہ،80سے زائد دہشتگرد ہلاک


















