گلگت کو ٹیکسوں و ڈیوٹیز سے استثنیٰ بااثر تاجروں اور سمگلنگ نیٹ ورک کیلئے کمائی کا ذریعہ

لاہور (نعیم جاوید سے) وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت گلگت بلتستان کو ترسیل کئے جانے والے سامان کو مختلف ٹیکسوں اور ڈیوٹی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد گلگت بلتستان جیسے دشوار گزار اور پسماندہ خطے میں اشیائے ضروریہ کی ارزاں فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔ تاہم اب یہی رعایت بعض بااثر تاجروں اور سمگلنگ نیٹ ورکس کیلئے کمائی کا ذریعہ بن چکی ہے۔ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان کیلئے مختص ٹیکس فری سامان، جس میں ہمسایہ ممالک خصوصاً چین، اور ایران سے درآمد ہونے والی اشیاءبھی شامل ہیں، مقررہ منزل تک پہنچنے کے بجائے لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں کی ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں میں کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔ لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ، اچھرہ، اکبری منڈی، برانڈتھ روڈ اور بعض صنعتی علاقوں میں یہ سامان عام مارکیٹ ریٹ سے کہیں کم قیمت پر دستیاب ہے، جس سے مقامی صنعت اور قانونی درآمد کنندگان شدید متاثر ہو رہے ہیں۔تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس نیٹ ورک میں سرحدی علاقوں کے کلیئرنگ ایجنٹس، ٹرانسپورٹرز، بعض گودام مالکان اور بڑے تھوک تاجر شامل ہیں جو جعلی دستاویزات، فرضی بلوں اور مال برداری کے کمزور نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سامان گلگت بلتستان کے نام پر کلیئر کرواتے ہیں اور بعد ازاں اسے خفیہ راستوں یا ملی بھگت سے لاہور منتقل کر دیتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض تاجر کئی برسوں سے اس دھندے میں ملوث ہیں مگر موثر نگرانی نہ ہونے کے باعث ان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی۔اس صورتحال پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا موقف یہ ہے کہ چیمبر کے پاس براہ راست نفاذ یا چھاپہ مار کارروائی کا اختیار نہیں۔ چیمبر کے عہدیداران کے مطابق انہوں نے مختلف فورمز پر حکومت اور متعلقہ محکموں کو اس مسئلے کی نشاندہی کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کیلئے جانے والے سامان کی ٹریکنگ، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور چیک پوسٹس پر سخت جانچ پڑتال کو یقینی بنایا جائے۔ چیمبر حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ٹھوس شواہد فراہم کئے کئے تو وہ ایسے تاجروں کی رکنیت معطل کرنے اور ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کرنے کیلئے تیار ہیں۔تاہمدوسری جانب اپوزیشن تاجر برادری کے ایک بڑے طبقے کا کہنا ہے کہ چیمبر کا کردار محض بیانات تک محدود ہے اور عملی سطح پر کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔روز نامہ مشرق لاہور سے گفتگو کرتے ہوئے امجد چوہدری،ناصر حمےد خان،سلطان محمود غزنوی،اور راجہ وسےم حسن نے کہا کہ چیمبر کو چاہئے تھا کہ وہ خود فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں بناتا، مارکیٹوں میں سروے کراتا اور حکومت پر دباو¿ ڈالتا تاکہ اس ٹیکس چوری کو روکا جا سکے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے نام پر دی گئی سہولت چند طاقتور مافیا کے ہاتھوں یرغمال بن چکی ہے، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے تاجر رہناوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی پارلیمانی تحقیق کرائی جائے، ایف بی آر، کسٹمز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کا آڈٹ کیا جائے اور ملوث تاجروں و افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔معاشی ماہرین کے مطابق اگر اس غیر قانونی تجارت کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو نہ صرف مقامی صنعت مزید کمزور ہو گی بلکہ ٹیکس نیٹ پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کیلئے مختص سامان کیلئے اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹل ٹریکنگ، مخصوص پیکجنگ، اور منزل تک پہنچنے کی تصدیق کے بغیر کسی بھی گاڑی کو کلیئر نہ کرنے جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔مجموعی طور پر گلگت بلتستان کے نام پر ٹیکس فری سامان کی لاہور اور دیگر شہروں میں فروخت ایک سنگین معاشی اور انتظامی مسئلہ بن چکا ہے، جس پر اگر حکومت، چیمبر آف کامرس اور متعلقہ اداروں نے بروقت اور مشترکہ اقدام نہ اٹھایا تو اس کے اثرات طویل المدت اور نقصان دہ ثابت ہوں گے۔