مہنگے آٹے سے شہری پریشان، بین الصوبائی ترسیل پر پابندی سے صورتحال سنگین

لاہور(رپورٹ: نعےم جاوےد)ملک بھر میں آٹے کی قیمت میں حالیہ اضافے نے عوام کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ چند ماہ قبل آٹے کا 20 کلو کا تھیلا مختلف شہروں میں اوسطاً 1400 سے 1600 روپے میں دستیاب تھا، تاہم اب یہی تھیلا 2300 سے 2600 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ بعض علاقوں میں قیمت اس سے بھی زیادہ دیکھی جا رہی ہے جس پر صارفین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آٹے کی قیمت میں اضافے کی وجوہات میں گندم کی سپلائی میں کمی، پیداواری لاگت میں اضافہ، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات شامل ہیں۔ بعض مقامات پر بین الصوبائی ترسیل میں رکاوٹوں اور ذخیرہ اندوزی نے بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل جب 20 کلو آٹے کا تھیلا 1500 روپے کے لگ بھگ تھا اس وقت گندم نسبتاً سستی اور دستیاب تھی، تاہم اب گندم کی قیمت میں اضافے اور سپلائی مسائل کے باعث آٹا مہنگا ہو گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ملز اپنی بڑھتی ہوئی لاگت پوری کرنے پر مجبور ہیں اور اگر گندم کی فراہمی بہتر نہ کی گئی تو قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔دوسری جانب عوام نے آٹے کی قیمت میں اضافے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ لاہور کے علاقے راوی روڈ کے رہائشی اشرف نے کہا کہ پہلے 1500 روپے میں پورے مہینے کا آٹا آ جاتا تھا، اب 2500 روپے دینا پڑ رہے ہیں۔ جو ایک عام مزدور کیلئے بہت مشکل ہے۔گلبرگ کی گھریلو خاتون شازیہ بی بی کا کہنا ہے کہ آٹے کی مہنگائی نے کچن کا بجٹ بگاڑ دیا ہے، دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی اس کے ساتھ بڑھ جاتی ہیں۔شاہ جمال کے دکاندار آصف محمود نے بتایا کہ گاہک آٹے کی قیمت سن کر شکایت کرتے ہیں لیکن دکاندار بھی مہنگے ریٹ پر آٹا لینے پر مجبور ہیں۔منصورہ کے رہائشی سجاد حسین کے مطابق تنخواہ وہی ہے مگر آٹا ایک ہزار روپے مہنگا ہو گیا ہے، حکومت کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔ باغبانپورہ کے مزدور عبدالرشید نے کہا کہ دو وقت کی روٹی مشکل ہو گئی ہے، اگر آٹا مزید مہنگا ہوا تو گزارا ناممکن ہو جائے گا۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت گندم اور آٹے کی سپلائی کو یقینی بنائے، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کارروائی کرے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے فوری اقدامات کرے تاکہ مہنگائی کے بوجھ سے عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔