لاہور (نعیم جاوید سے) لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آٹے کے تھیلے کی قیمت میں اچانک 200 روپے تک اضافے نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں 20 کلو آٹے کا تھیلا جو چند روز قبل تک نسبتاً کم قیمت پر دستیاب تھا، اب مختلف علاقوں میں 2 ہزار سے 2 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ بعض مقامات پر قیمت اس سے بھی زائد بتائی جا رہی ہے۔ قیمتوں میں اس اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں آٹے کی قیمتوں میں یکساں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی مہنگائی نے جینا دوبھر کر رکھا ہے، اب آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمت میں اضافے نے گھریلو بجٹ کو مکمل طور پر متاثر کر دیا ہے۔ متعدد صارفین نے شکایت کی کہ مارکیٹ میں نہ صرف قیمتیں بڑھی ہیں بلکہ سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد بھی نظر نہیں آ رہا۔روز نامہ ”مشرق“ لاہور نے اس حوالے سے فلور ملز ایسوسی ایشن کے سرپرست عاصم رضاسے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ آٹے کی قیمت میں اضافے کی بنیادی وجہ گندم کی خریداری، ٹرانسپورٹیشن اخراجات اور پیداواری لاگت میں اضافہ ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق سرکاری سطح پر گندم کی ریلیز محدود ہونے اور اوپن مارکیٹ سے مہنگی گندم خریدنے کے باعث ملوں کیلئے پرانی قیمتوں پر آٹا فراہم کرنا ممکن نہیں رہتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی، گیس اور دیگر پیداواری اخراجات میں اضافے کا بوجھ بھی بالآخر صارفین تک منتقل ہو رہا ہے۔دوسری جانب محکمہ خوراک پنجاب کے ذمہ داران نے قیمتوں میں اضافے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ صوبے میں گندم اور آٹے کا کوئی بحران نہیں ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق سرکاری گوداموں میں وافر مقدار میں گندم موجود ہے اور فلور ملوں کو مقررہ کوٹے کے تحت گندم کی فراہمی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی علاقے میں آٹے کی قیمتیں سرکاری نرخ سے زیادہ وصول کی جا رہی ہیں تو یہ ذخیرہ اندوزی یا ناجائز منافع خوری کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔محکمہ خوراک کے حکام کے مطابق پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی ٹیمیں مارکیٹوں کے دورے کر رہی ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ تاہم شہریوں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ان کارروائیوں کا اثر نظر نہیں آ رہا اور دکاندار کھلے عام من مانی قیمتیں وصول کر رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق اگر گندم کی سپلائی چین میں شفافیت نہ لائی گئی اور فلور ملوں و مارکیٹ کے درمیان قیمتوں کے فرق کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں آٹے کی قیمت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ شہری حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کیلئے فوری اور موثر اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام کو مزید مالی دباو¿ سے بچایا جا سکے۔
پنجاب میں آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 200 روپے تک اضافہ ، شہری مشکلات سے دوچار



















