وفاقی بجٹ پیش،تنخواہوں،پنشن میں 7فیصد اضافہ، متعددشعبوں کیلئے ریلیف

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)تنخواہوں،پنشن میں 7فیصد اضافہ،کم از کم اجرت40700 ،ایف بی آرکا ٹیکس ہدف 15264 ارب مقرر،تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا ریلیف،چھوٹے تاجروں ،دکانداروں کےلئے آسان فکسڈ ٹیکس سسٹم،غیرملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ،کاروباری طبقے پر سپر ٹیکس ختم،جائیداد کی خرید و فروخت، آئی ٹی برآمدات، بیرون ملک لین دین اور غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی وخاتمہ ،،بیرون ملک سرمایہ رکھنے والے پاکستانیوں کےلئے ٹیکس چھوٹ ،فری لانسرز، سافٹ ویئر ہاوسز، ڈیجیٹل برآمدات کیلئے رعایت،دفاعی بجٹ 3ہزار ،اپنا گھر سکیم کیلئے 71 ارب مختص،بی آئی ایس پی کے دائرہ کار میں توسیع، مستحق خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچانے کا اعلان،2 کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ،پٹرولیم لیوی میں بڑا اضافہ،اربوں روپے جمع کرنے کاتخمینہ،ٹیکس چوری پر جرمانے بڑھ گئے،کسانوں کیلئے 300 ارب کے قرضے، ای بائیکس ،ای رکشوں کیلئے سبسڈائزڈ فنانسنگ ،وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب نے 18 ہزار 771 ارب کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا وفاقی بجٹ پیش کرنا بڑے اعزاز کی بات ، اتحادی جماعتوں کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں،نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چودھری شجاعت ، عبدالعلیم خان اور خالد مگسی کی رہنمائی قابل قدر ،بجٹ ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا جب پاکستان عالمی عوام ، ذرائع ابلاغ کی نظر میں ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا جس کی آواز سنی اور دوستی کی خواہش کی جاتی ہے،تبدیلی اتفاقاً نہیں آئی، آغاز گزشتہ برس مئی میں ہوا،سرحدوں پر حالیہ جارحیت کے جواب میں مسلح افواج نے ایسا فیصلہ کن ردعمل دیا دشمن چند ہی گھنٹوں میں جنگ بندی کی بات کرنے پر مجبور ہو گیا، کامیابی دہائیوں کی پیشہ ورانہ تربیت ، تیاری کا نتیجہ ا ور قومی تاریخ کا روشن باب ہے،دنیا پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کی معترف ،فضائیہ کے تھنڈر جیٹس متعدد ممالک کی دلچسپی کا مرکز،دفاعی صنعت اب زرمبادلہ کمانے کا بھی اہم ذریعہ بن رہی ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہاپاکستان ،سعودی عرب کے درمیان سٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیشرفت ،ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود ہے ،معاہدے نے تعلقات کو نئی و مضبوط بنیاد فراہم کردی،پیشرفت پر وزیر اعظم، فیلڈ مارشل ،عسکری و سفارتی قیادت کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں،پاک چین تعلقات خارجہ پالیسی کا اہم ستون ، دونوں ممالک کی دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری و شہد سے میٹھی ،چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ،دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مسلسل بڑھ رہا ہے،عالمی معاشی چیلنجز، روس یوکرین جنگ اور عالمی منڈیوں میں تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پٹرول ،ڈیزل کی قیمتوں پر شدید دباو¿ ہے،حکومت بوجھ مکمل طور پر عوام پر منتقل کرتی تو قیمتیں کہیں زیادہ ہوتیں۔

وزیر خزانہ نے کہاحکومت نے 128 ارب کی معاشی ڈھال کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کیا، بعد میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے ذریعے مزید بہتر بنایا گیا،آئندہ بھی ضرورت مند طبقات کو پٹرولیم مصنوعات میں ریلیف فراہم کرتے رہیں گے،آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18 ہزار 771 ارب ، قرضوں پر سود کی ادائیگی کےلئے 8 ہزار 54 ارب ،پنشن کی مد میں 1169 ارب ،ملٹری پنشن 822 ارب ،سول پنشن کےلئے 272 ارب مختص کرنے کا تخمینہ لگایا ، دفاعی اخراجات کےلئے 3 ہزار،سبسڈی کی مد میں 1091 ارب رکھنے کی تجویز ہے،وفاقی حکومت کے سول اخراجات کےلئے 1071 ارب ،ہنگامی و غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کےلئے 430 ارب،مجموعی جاری اخراجات کا حجم 17 ہزار 495 ارب مقرر کردیا،وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کےلئے 1050 ارب مختص ،ایف بی آر کےلئے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 15 ہزار 264 ارب مقرر کردیا گیا۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا پاکستان معاشی استحکام کی جانب گامزن، بجٹ ترقی و عوامی ریلیف کا بجٹ ،معیشت کو بحران سے نکال کر استحکام کی راہ پر ڈالا، ملکی عالمی ساکھ بہتر ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا اعتماد بحال ، معاشی اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں،زرمبادلہ ذخائر و ایکسچینج ریٹ میں استحکام حاصل کیا گیا، مہنگائی میں نمایاں کمی ،مالی نظم و ضبط حکومت کی بڑی کامیابی ہے، صنعتی شعبے ،بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بہتری ریکارڈ کی گئی، برآمدات و معاشی سرگرمیوں کے فروغ کیلئے نئی حکمت عملی متعارف کرائی جا رہی ہے،پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری عالمی اعتماد کا اظہار ، نجکاری پروگرام تیز ، قومی اداروں کی اصلاحات جاری ہیں، پی آئی اے سمیت اہم سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیش رفت ، توانائی شعبے میں اصلاحات سے گردشی قرضے میں کمی ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا ٹیکس نظام میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت و ڈیجیٹل مانیٹرنگ متعارف کرا دی ، ٹیکس چوری کی روک تھام ،شفافیت کیلئے اے آئی پر مبنی نظام نافذ کیا جا رہا ہے، کاروباری برادری کیلئے آسان ، شفاف ٹیکس نظام ترجیح ، ڈیجیٹل پاکستان ویژن کے تحت کیش لیس معیشت کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے،ڈیجیٹل ادائیگیوں و بینکنگ صارفین کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا، نوجوانوں کیلئے ہنر، کاروبار ، روزگار کے مواقع بڑھائے جا رہے ہیں، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت لاکھوں نوجوان مستفید ، نوجوانوں کیلئے آسان قرضوں ،زرعی فنانسنگ کے نئے مواقع فراہم ، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے پاکستان ایکسلریٹڈ وہیکل الیکٹریفکیشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا زرعی ذخیرہ گاہوں ،فوڈ سکیورٹی کیلئے خصوصی فنانسنگ سہولت متعارف ،تجارت و ٹیرف نظام کو عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے، برآمدات میں اضافے ،سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں،آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس شرح میں کمی کر دی، 6 لاکھ سالانہ آمدن پر زیرو ٹیکس اور 12 لاکھ روپے آمدن پر 1 فیصد ٹیکس ہو گا، 12 لاکھ سے زائد اور 22 لاکھ روپے آمدن تک 11 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا،22 لاکھ سے زائد اور 32 لاکھ روپے آمدن تک 20 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 32 لاکھ سے زائد اور 41 لاکھ روپے آمدن تک 25 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، 41 لاکھ روپے سے زائد اور 56 لاکھ سالانہ آمدن پر 29 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا،56 لاکھ روپے سے زائد اور 70 لاکھ سالانہ آمدن پر 32 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔

وزیر خزانہ نے کہا حکومت نے 185 ارب کے عوض پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) کو نجی شعبے کے حوالے کیا،فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا عمل بھی شروع کر دیا ،پی آئی اے کی کامیاب نجکاری کے بعد حکومت 5سالہ نجکاری منصوبے پر عمل پیرا ہے،ریاستی اداروں میں اصلاحات ،نجکاری کے ذریعے معیشت کو مزید مستحکم بنایا جائے گا،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ،پنشن میں 7 فیصد اضافہ ،کم ازکم اجرت 40700روپے مقرر کردی،تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں ریلیف دینے کےلئے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں،عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

سینیٹر اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے معاشی اہداف کا اعلان کرتے ہوئے کہا اقتصادی ترقی 4 ،افراط زر کی اوسط شرح 8.2 فیصد رہنے کا امکان ہے،وفاقی حکومت کی خالص آمدن 11 ہزار 751 ارب ،محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 848 ارب ہوگا،بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کیلئے 838 ارب مختص کردئیے،حکومت معاشرے کے کمزور اور مستحق طبقات کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے،بی آئی ایس پی کے بجٹ میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ مستحق خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی،آزاد جموں و کشمیر 146،گلگت بلتستان 88 ،خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 95 ارب مختص کردئیے،پسماندہ و ترقی پذیر علاقوں کی ترقی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے ،بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے برآمدی شعبے کیلئے اہم ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ایکسپورٹ انکم پر عائد ایکسپورٹ ڈیلپمنٹ سرچارج مکمل طور پر ختم ،فائلرز کیلئے جائیداد کی خریداری اور فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں نمایاں کمی ،پراپرٹی خریدنے پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد ،فروخت پر 5.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا ،15 سے 50 کروڑ روپے منافع کمانے والی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے،50 کروڑ سے زائد آمدن والی کمپنیوں کیلئے سپر ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دےدی،آئی ٹی شعبے کو ریلیف دیتے ہوئے آئندہ مالی سال کیلئے آئی ٹی برآمدات پر 0.25 فیصد رعایتی ٹیکس برقرار رکھنے کا فیصلہ کرلیا،حکومت آئی ٹی برآمدات کے فروغ ،ڈیجیٹل معیشت کے استحکام کیلئے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا رواں سال 16 لاکھ 70 ہزار تاجر ڈیجیٹل پیمنٹ نظام سے منسلک ،133 ملین صارفین ڈیجیٹل بینکنگ سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں،پروڈکشن مانیٹرنگ نظام 27 سیمنٹ فیکٹریوں ،75 شوگر ملز میں نافذ ،سالانہ 61 ارب اضافی ٹیکس وصولی متوقع ہے،زرخیزی پروگرام کے تحت 7 لاکھ 50 ہزار کسانوں کو 300 ارب کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں،نجی شعبے کے تعاون سے چھوٹے کاروباروں، نوجوانوں اور خواتین کیلئے بھی آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے،ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے ای بائیکس اور ای رکشوں کی خریداری کیلئے سبسڈائزڈ فنانسنگ فراہم کرینگے۔

وزیر خزانہ نے کہا نیوٹیک کے ذریعے نوجوانوں کو فنی تربیت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صحت عامہ 25.1 ،ہائر ایجوکیشن 46 ،تعلیم کے شعبے کیلئے 26.3 ارب مختص کردئیے،انسانی ترقی کے شعبوں میں سرمایہ کاری ترجیحات میں شامل ،تعلیم و صحت کے منصوبوں کیلئے فنڈز میں اضافہ کیا جا رہا ہے،نیشنل ٹیرف پالیسی 30-2025 کے تحت کینسر و دیگر بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات کی مقامی تیاری کےلئے اہم سہولت متعارف کرادی،کینسر و دیگر امراض کی ادویات کی مقامی پیداوار میں استعمال ہونے والی 100 سے زیادہ اقسام کے خام مال پر عائد کسٹمز ڈیوٹی مکمل طور پر ختم کی جا رہی ہے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا کریڈٹ ،ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرون ملک ادائیگیوں پر عائد ٹرانزیکشن ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 0.5 فیصد کیا جا رہا ہے،غیر ملکی اثاثے رکھنے والے پاکستانیوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کردیا،سرمایہ کاری کے ماحول کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی،حکومت نے 20 سال بعد آف شور لائسنسنگ کے 24 بلاکس الاٹ کئے ،مقامی گیس کی پیداوار بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے،مارچ 2026 کے بعد قومی نظام میں 100 ایم ایم سی ایف ڈی اضافی گیس شامل کی گئی ،بجلی کی پیداوار میں ایندھن کی کمی کے مسئلے میں نمایاں بہتری آئی۔

وزیر خزانہ نے کہا وزیراعظم نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کر دیا ،وزیراعظم سرکاری ،نجی شعبے کے ملازمین کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ،مزید آسانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔