واشنگٹن: (بیورورپورٹ)عرب اتحادیوں کی دوری، ہتھیاروں میں کمی، امریکہ نے ایران پر حملوں سے عارضی گریز کا فیصلہ کرلیا۔
نیو یارک ٹائمز، ایگزیوس، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا ڈونلڈ ٹرمپ نے فی الحال ایران کےخلاف امریکی فوجی حملوں میں شدت نہ لانے کا فیصلہ کیا ،فیصلہ تب کیا گیا جب حکام نے پیٹریاٹ دفاعی میزائلوں کے ذخائر میں کمی ،خلیج فارس میں عرب اتحادیوں کے دور ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا،صدر نے سفارتکاری کو مزید موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعے کے روز امریکی فوج کو ایران پر نئے حملے نہ کرنے کی ہدایت دی۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے ایران کےخلاف جنگ کو مزید وسعت دینے کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کردیا۔
اعلیٰ سطح کے اجلاس میں جنرل ڈین کین نے صدر ٹرمپ کو بریفنگ دیتے ہوئے ممکنہ فوجی کارروائیوں کے نتائج و خطرات سے آگاہ کیا،جنرل ڈین کین نے امریکی اسلحہ ذخائر، طویل جنگ کے ممکنہ اثرات و دیگر عسکری چیلنجز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاامریکی فوج صدر کے احکامات پر عمل کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی تاہم ہر فوجی آپشن کے ممکنہ نتائج کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
دریں اثناوائٹ ہاوس کے ڈائریکٹر برائے مواصلات سٹیون چونگ نے کہا صدر ٹرمپ ہمیشہ کہتے آئے ہیں سفارتی حل ترجیح لیکن اگر ایران آبنائے ہرمز میں یا اتحادیوں کےخلاف شدت پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھتا ہے تو تمام آپشنز کھلے ہیں، دانشمندانہ راستہ یہی ہو گا ایران کسی معاہدے کےلئے مذاکرات کا رخ کرے ورنہ وہ جانتے ہیں کیا ہو سکتا ہے۔
عرب اتحادیوں کی دوری، ہتھیاروں میں کمی، امریکہ کا ایران پر حملوں سے عارضی گریز


















