آزادکشمیر الیکشن ، دوسرے مرحلے میں بھی شیر کی دھاڑ،پی پی،آئی پی پی نے نتائج مسترد کردئیے

مظفر آباد،لاہور،گجرات،گوجرانوالہ،نارووال،سیالکوٹ،اسلام آباد:(نمائندگان)آزادکشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی شیر کی دھاڑ،پیپلز پارٹی،آئی پی پی نے دھاندلی کے الزامات عائد کردئیے۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفر آباد ڈویژن کے 8 حلقوں ،مہاجرین کی 12 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی،پولنگ کاوقت ایک گھنٹہ بڑھا یا گیا،سکیورٹی انتہائی سخت رہی،ایل اے 27 میں موسم کی خرابی ،لینڈسلائیڈنگ کے باعث عملہ اور پولنگ کا سامان نہ پہنچے پر انتخابات ملتوی کردئیے گئے،حلقہ 2 لچھراٹ کے کچھ پولنگ سٹیشنز پر بھی پولنگ ملتوی ہوگئی ،دونوں حلقوں میں اب 4 اگست کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

غیر حتمی وغیر سرکاری نتائج کے مطابق انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بھی ن لیگ سب سے آگے،پیپلز پارٹی کادوسرا نمبر ہے۔

دوسری جانب پیپلز پارٹی،آئی پی پی نے دھاندلی کے الزامات عائد کردئیے،چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری نے کہاالیکشن کمیشن پہلے مرحلے میں شکایات پر کوئی کارروائی کرنے میں ناکام رہا ،نوٹس لے لیا جاتا تو دوسرے مرحلے کے انتخابات کی ساکھ بحال ہوسکتی تھی،پیپلزپارٹی احتجاج کرنے اور دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کرنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

نیئر بخاری،راجہ پرویز اشرف ودیگر پی پی رہنماﺅں نے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے کہان لیگ جبر و دھونس کے ذریعے انتخابات جیتنا چاہتی ہے،پیپلز پارٹی کے کارکن مشتاق کو قتل کیا گیا ،متعدد پولنگ سٹیشنوں کے باہر ن لیگی کارکن ووٹروں میں بیلٹ پیپر تقسیم کرتے رہے،موجودہ انتخابی عمل کو کسی صورت آزاد، منصفانہ و شفاف انتخابات قرار نہیں دیا جا سکتا، نتائج قابل قبول نہیں ،چیف الیکشن کمشنر ن لیگ کی بے ضابطگیوں کا فوری نوٹس لیں۔

ادھر رہنما استحکام پاکستان پارٹی شعیب صدیقی نے کہا الیکشن شفاف نہیں ،دھاندلی کی گئی،نتائج قبول نہیں،5بجے پولنگ ٹائم ختم ہوا اور2منٹ بعد رزلٹ بھی آگیا،نتائج کے مطابق سارے ووٹ ن لیگ کو پڑے،پریزائیڈنگ افسر فارم تیارکرکے بیٹھاتھا ایسے الیکشنز سے بہتر ہے براہ راست سلیکشن ہی کر لی جائے۔

دریں اثنامشیر وزیراعظم رانا ثنا،وفاقی وزیر امیر مقام نے کہاپی پی کے دھاندلی الزامات میں تضاد، پہلے 13 پھر 2 نشستوں کا دعویٰ کیا،آزاد کشمیر کے عوام نے بھرپور انداز میں ووٹنگ میں حصہ لیا،لطیف اکبر کےساتھ پیش آنےوالا واقعہ مخالف برادری کے افراد کےساتھ تلخ کلامی کا معاملہ تھا ،پیپلزپارٹی کی جانب سے قاتلانہ حملہ قرار دینا درست نہیں،بلاول بھٹو زرداری کوحقائق سامنے رکھ کر موقف اختیار کرنا چاہیے۔