لاہور (قمر عباس نقوی) مختلف مکاتب فکر کے علماءنے کہا ہے کہ حرمین شریفین کا تحفظ، سعودی عرب کی سلامتی، امت مسلمہ کا اتحاد اور مظلوم انسانیت کا تحفظ مشترکہ دینی، قومی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ کیلئے اقدامات کی حمایت میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔ علماءکرام نے کہا حرمین شریفین ہماری ریڈ لائن ہیں۔علامہ راغب نعیمی کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ، حرمین شریفین کی حفاظت اور علاقائی امن کو مضبوط بنانے کیلئے حکومت پاکستان کی کاوش بہترین عمل ہے۔حافظ عبدالغفار روپڑی نے کہا کہ مسلم دنیا میں استحکام اور اتحاد کے فروغ کیلئے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، دفاعی تعاون اور تعمیری کردار کی اہمیت پر زور دیا جانا چاہیے۔ مکہ المکرمہ، مدینہ المنورہ، بیت اللہ الحرام اور مسجد نبوی کا تقدس ہر مسلمان کے ایمان و عقیدے کا لازمی حصہ ہے۔ دونوں مقدس مساجد کی سلامتی اور تحفظ کسی ایک ملک یا قوم کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا مشترکہ دینی فریضہ ہے۔ڈاکٹر حافظ مسعود عبدالرشید اظہر نے کہا کہ مقدس مقامات، بیت اللہ الحرام کے زائرین اور حج و عمرہ کی ادائیگی کیلئے آنے والے عازمین کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حوثی مسلح گروہ کی جانب سے سعودی عرب، شہری آبادیوں، ہوائی اڈوں، اہم بنیادی تنصیبات اور زائرین کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی۔ علامہ السید الرحمن کا کہنا ہے کہ بے گناہ انسانوں کی جانیں لینا، شہری تنصیبات پر حملے کرنا، خوف و ہراس پھیلانا اور مقدس مقامات کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنا اسلامی تعلیمات، بین الاقوامی انسانی قانون اور بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہے۔ ایسے تمام حملوں کی فوری اور غیر مشروط بندش کا مطالبہ کرتے ہوئے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے موثر اقدامات پر زور دیا۔قاضی کاشف نیاز و دیگر نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ حرمین شریفین، شہری آبادی اور قومی سلامتی کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قانون کے مطابق سعودی عرب کے جائز دفاعی اقدامات سمیت اس کی سلامتی، خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کی حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بحران کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کا کوئی جواز نہیں اور امت مسلمہ اسے مختلف مکاتب فکر کے درمیان تنازعہ نہیں سمجھتی۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی سلامتی کے انتظامات اور مشترکہ دفاعی اقدامات کی تائید کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد جارحیت کی روک تھام، مقدس مقامات کا تحفظ، قومی خودمختاری کا احترام اور خطے میں امن و استحکام کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ تینوں ممالک کے درمیان تعاون مسلم ممالک کے مابین باہمی اعتماد، اجتماعی سلامتی اور مشترکہ ذمہ داری کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ حرمین شریفین تمام مسلم ممالک اور امت کیلئے ریڈ لائن ہے، کسی کو اس کو عبور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ضرورت پڑنے پر اس پر احتجاج بھی ریکارڈ کرایا جا سکتا ہے۔
حرمین شریفین کا تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی مشترکہ دینی فریضہ ہے: علماءکرام


















