اسلام آباد، راولپنڈی (بیورو رپورٹ) خصوصی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج معالجہ کی درخواست مسترد کردی۔ سپریم کورٹ میں مختلف مقدمات سماعت کیلئے مقرر کر دئیے گئے،انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست مسترد کر دی، درخواست پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے جج امجد علی شاہ نے کی،درخواست کے متن میں موقف اختیار کیا گیا عمران خان کا ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے طبی معائنہ کرایا جائے،ذاتی معالجین سے طبی معائنہ آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے، وکیل صفائی فیصل ملک نے کہا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی ذاتی معالج دستیاب تھے،سپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے ذاتی معالجین سے میڈیکل چیک اپ کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا عمران خان انڈر ٹرائل قیدی نہیں ہیں، 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں بانی پی ٹی آئی ضمانت پر ہیں، بانی پی ٹی آئی جی ایچ کیو کیس میں انڈر ٹرائل ملزم ہیں قیدی نہیں ہیں،سرکاری وکیل ظہیر شاہ نے کہا کریمنل کورٹ کے پاس اختیار نہیں ضمانت پر کسی ملزم کی کسٹڈی کو ریگولیٹ کرے، یہ کوئی آئینی عدالت نہیں، کرمینل کورٹ ہے، کسی بھی قیدی کے علاج معالجے کیلئے حکومت ڈاکٹرز کا تعین کرتی ہے،سپیشل پراسیکیوٹر نے کہا پاکستان پریزن رولز میں پرائیویٹ ڈاکٹرز سے علاج کرانے کا کوئی ذکر نہیں، کسی بھی قیدی کیلئے ذاتی معالج کا پریزن رولز میں کوئی رول نہیں،بعد ازاں جج امجد شاہ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا،دوسری جانب سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 13 مختلف مقدمات سماعت کےلئے مقرر کر دئیے، چیف جسٹس آفریدی، جسٹس شاہد بلال پر مشتمل بنچ توشہ خانہ کیس سے متعلق فوجداری درخواستوں پر سماعت کرے گا۔
عمران خان کی ذاتی معالجین سے معائنے کی درخواست مسترد



















