اسلام آباد :(بیورورپورٹ) ترک جریدے نے کہاہے پاکستان نے تیزو فیصلہ کن ردعمل سے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روکدیا۔
ڈیلی صباح کے آرٹیکل میں کہا گیا پاکستان کی برداشت و استحکام کو 2بڑے حملوں نے آزمایا، بھرپور و تیز ردعمل نے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روکا،اسلام آباد مسجد حملہ ، بلوچستان میں مربوط دہشتگردی کا مقصد خوف، فرقہ ورانہ بے چینی ، ریاست پر اعتماد کو کمزور کرنا تھا،پاکستان نے بھرپور انسداد دہشتگردی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، اسلام آباد خودکش حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائیاں کرتے ہوئے 40 گھنٹوں میں 145 دہشتگردوں کو ہلاک کیا۔
ترک جریدے نے کہابلوچستان میں ایک ہفتے جاری رہنے والے آپریشن ردالفتنہ کے دوران بی ایل اے کے 216 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا، حملوں کے باوجود ریاستی رٹ کمزور ہوئی نہ سٹریٹجک نقصان ہوا ،دہشتگرد مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے،جدید دہشتگردی 2 محاذوں پر لڑی جاتی ، ایک مسلح حملے اور دوسرا نفسیاتی و پروپیگنڈا جنگ ہے، دہشتگردوں کا اصل ہدف میدان جنگ نہیں بلکہ عوام ، اداروں کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا تھا۔
آرٹیکل میں کہا گیا فوری کنٹرول، دہشتگردوں کو دوبارہ منظم ہونے سے روکنا اور نفسیاتی جنگ ناکام بنانا، پاکستان نے تینوں مراحل جیت لیے، عام شہریوں، خواتین ، بچوں کو نشانہ بنانے سے علیحدگی پسند بیانیہ بے نقاب ، دہشتگردی ثابت ہوئی،بین الاقوامی سطح پر بی ایل اے ، مجید بریگیڈ کو دہشتگرد تنظیم قرار دیا جانا پاکستان کے موقف کی تائید ہے۔
ڈیلی صباح کے مطابق سرحد پار معاونت ، جدید ہتھیار دہشتگردی کو زیادہ خطرناک بنا رہے ہیں، افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں ڈالر کے اسلحے کا دہشتگرد گروہوں تک پہنچنے کے خدشے کو پاکستان نے عالمی توجہ دلائی،دہشتگردوں کو جسمانی، مالی و نفسیاتی جگہ نہ دینا ہی پاکستان کی کامیاب حکمت عملی و استحکام کی ضمانت ہے، جدید دفاع کا مقصد صرف حملہ روکنا نہیں بلکہ ہر دھچکے کو رفتار میں بدلنے سے روکنا ہے۔
پاکستان نے تیزو فیصلہ کن ردعمل سے دہشتگردی کو سٹریٹجک جیت میں بدلنے سے روکدیا، ترک جریدہ


















