بیجنگ (مشرق نیوز) چینی سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ کھانوں میں بار بار اضافی نمک شامل کرنا ڈپریشن کے خطرے میں بھی نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ سائنسی جریدے نیوٹریشنل نیوروسائنس میں شائع ہونے والے مطالعے میں چینی محققین نے 15 ہزار سے زائد بالغ افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔
تحقیق میں معلوم ہوا کہ جو لوگ سب سے زیادہ اضافی نمک استعمال کرتے تھے، ان میں ڈپریشن کا شکار ہونے کا امکان 26 فیصد زیادہ تھا۔ سائنسدانوں نے واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ نمک ایسا اثر کیوں ڈال سکتا ہے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ نمک کا ضرورت سے زیادہ استعمال اس حیاتیاتی نظام کو حد سے زیادہ متحرک کر سکتا ہے جو جسم کے دباو (سٹریس) کے ردعمل کو منظم کرتا ہے، جس کے نتیجے میں سٹریس ہارمونز کی پیداوار بڑھ سکتی ہے۔
محققین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ زیادہ نمک کھانے سے جسم میں سوزش (انفلیمیشن) پیدا ہو سکتی ہے، جو دماغ کے ان حصوں کو متاثر کر سکتی ہے جو جذباتی توازن اور کیفیات کو قابو میں رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ تحقیق میں گوانگ ڈونگ پروونشل پیپلز ہسپتال کے سائنسدانوں نے لکھا کہ کھانوں میں باقاعدگی سے اضافی نمک شامل کرنے اور ڈپریشن کے خطرے کے درمیان نمایاں اور مثبت تعلق دیکھا گیا۔
کھانوں میں اضافی نمک ڈالنے سے ڈپریشن کا خطرہ بڑھتا ہے: سائنسدان


















