نیویارک (مشرق نیوز) موجودہ دور میں موبائل فون انسانی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے اور اکثر لوگ دن بھر وقفے وقفے سے اپنی سکرین دیکھتے رہتے ہیں۔ ٹیکنالوجی جہاں زندگی کو آسان بنانے کا ذریعہ بنی ہے، وہیں اسکے بیجا استعمال کے باعث صحت اور روزمرہ زندگی پر کئی منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق موبائل فون کے استعمال سے متعلق کئے گئے ایک سروے نے اس عادت کے بارے میں تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 84 فیصد موبائل صارفین صبح جاگنے کے فوراً بعد یا پندرہ منٹ کے اندر موبائل فون استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ عادت انسانی دماغ پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جب انسان نیند سے بیدار ہوتا ہے تو اس کا دماغ ابتدائی طور پر ڈیلٹا سٹیٹ یعنی گہرے سکون کی حالت میں ہوتا ہے۔ اس کے بعد دماغ آہستہ آہستہ الفا اسٹیٹ میں داخل ہوتا ہے، جس میں انسان بظاہر جاگ چکا ہوتا ہے مگر ذہن پوری طرح فعال نہیں ہوتا۔ بعد ازاں دماغ بیٹا سٹیٹ میں پہنچتا ہے جہاں وہ مکمل طور پر متحرک ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص جاگتے ہی موبائل فون استعمال کرنا شروع کر دے تو دماغ کو سکون کی حالت سے اچانک مکمل سرگرمی کی حالت میں منتقل ہونا پڑتا ہے۔ اس تیز تبدیلی کے باعث ذہنی دباو بڑھ سکتا ہے اور انسان بے چینی، چڑچڑاپن اور تھکن کا شکار ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اس کے نتیجے میں انسان پورا دن کام میں دلچسپی محسوس نہیں کرتا۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ نیند سے بیدار ہونے کے بعد کم از کم تیس منٹ سے ایک گھنٹہ تک موبائل فون استعمال نہ کیا جائے تاکہ دماغ کو قدرتی طور پر بیدار ہونے کا وقت مل سکے۔ اسی طرح ماہرین اس بات پر بھی توجہ دلاتے ہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں سونے سے پہلے موبائل فون استعمال کرنے کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے۔
ان کے مطابق سونے سے پہلے سکرین دیکھنے کی عادت نیند کے معمول کو متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں مختلف جسمانی اور ذہنی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین بہتر صحت کیلئے موبائل فون کے استعمال میں اعتدال اور مناسب وقت کا انتخاب ضروری قرار دیتے ہیں۔
صبح آنکھ کھلتے ہی موبائل دیکھنا صحت کیلئے سخت نقصان دہ


















