تہران:(مشرق نیوز)ایران نے جنگ کے خاتمے کی امریکی تجویز پر جواب پاکستان کے ذریعے بھیج دیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے گئے جواب کا مقصد جنگ کا خاتمہ ہے‘مذاکرات کے موجودہ مرحلے میں توجہ صرف خطے میں جنگ بندی و کشیدگی کے خاتمے پر مرکوز ہے ،سیاسی و سکیورٹی معاملات بعد میں زیر غور آئیں گے۔
ادھر پاسداران انقلاب نے امریکہ کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں موجود امریکی تنصیبات ،فوجی اہداف پر حملے کیے جائیں گے،ایران کے میزائل ،جدید ڈرون مکمل طور پر تیار اور کسی بھی جارحانہ اقدام کا فوری جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیںنہ صرف امریکی فوجی اڈوں بلکہ خطے میں موجود دشمن کے جنگی جہازوں کو بھی نشانہ بنا سکتے،تیل بردار جہاز رانی اور قومی مفادات کے تحفظ کےلئے ہر ممکن اقدام کرینگے۔
ترجمان ایرانی فوج نے کہاامریکی پابندیوں پر عمل کرنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز میں مشکلات کا سامنا ہوگا،حالیہ جنگ کے دوران دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکا ،جنگ کے نتیجے میں ایران کے اندر اتحاد اور یکجہتی مزید مضبوط ہوئی، مظاہرہ عوام کی بڑی تعداد میں سڑکوں پر موجودگی سے دیکھا جا سکتا ہے،مخالف قوتیں ایران کی مزاحمت کو توڑنے میں ناکام رہیں اور بالآخر جنگ بندی قبول کرنا پڑی،جنگ بندی کے دوران ایران نے اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید بہتر بنایا۔
دریں اثناصدر مسعود پزشکیان نے واضح کیامذاکرات کا مطلب ہرگز ہتھیار ڈالنا نہیں بلکہ ایران اپنے قومی مفادات ،عوام کے حقوق کے تحفظ کےلئے مضبوط موقف کے ساتھ بات چیت جاری رکھے گا،بنیادی مقصد ایرانی عوام کے حقوق کا حصول ،قومی مفادات کا طاقت اور وقار کےساتھ دفاع کرنا ہے۔
مسعودپزشکیان نے کہا ایران ہمیشہ اپنے اصولی موقف پر قائم اور کسی بھی مذاکراتی عمل میں قومی خودمختاری ،عوامی حقوق کو مقدم رکھا جائے گا،موجودہ صورتحال میں مذاکرات کو کمزوری یا پسپائی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے،حکومت متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔
ایران نے جنگ بندی کی امریکی تجویز پر جواب بذریعہ پاکستان بھیج دیا



















