لاہور:(کامرس رپورٹر) وفاقی بجٹ پر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں ،سابق صدور نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے بجٹ میں صنعتی ترقی، زراعت اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کےلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، بعض شعبوں خصوصاً تعمیرات، برآمدات و تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف ملا۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہابجٹ سے قبل ہی زیادہ توقعات وابستہ نہیں تھیں تاہم تفصیلات مکمل طور پر سامنے آنے کے بعد مزید کھل کر تبصرہ کیا جا سکے گا،صنعتی ترقی کیلئے بجٹ مایوس کن ،حکومت نے سفارشات پر عملدرآمد نہیں کیا ، مقصد پیداواری شعبوں کو فروغ دینا تھا،لاہور چیمبر نے تجویز دی تھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز کا ایک حصہ ووکیشنل ٹریننگ اداروں ،ایس ایم ایز کی معاونت کےلئے مختص کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو ہنر فراہم کر کے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں تاہم کوئی پیشرفت نظر نہیں آئی۔
صدر لاہور چیمبر نے کہابجٹ میں زراعت کا خاطر خواہ ذکر تک نہیں کیا گیا، مستقبل میں فوڈ سکیورٹی کے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے،پانی کے ذخائر بڑھانے ، آبی بحران سے نمٹنے کےلئے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی ضرورت تھی مگر بجٹ میں شعبے کو بھی نظر انداز کیا گیا،بعض اقدامات خوش آئند ہیں،کنسٹرکشن سیکٹر کےلئے دی جانے والی مراعات مثبت پیشرفت ہیں ، زمین کی خرید و فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی سرمایہ کاری کو فروغ دے سکتی ہے،برآمدات کے فروغ کےلئے سپر ٹیکس کے خاتمے اور ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈز پر عائد ٹیکس کو 5سے کم کرکے .5فیصد کرنے کا اقدام بھی کاروباری سرگرمیوں کےلئے مفید ثابت ہو گا۔
فہیم الرحمن سہگل نے کہا بیرون ملک اثاثوں پر ٹیکس ختم کیے جانے سے پاکستانیوں کو اپنے اثاثے ظاہر کرنے میں آسانی ہوگی، پٹرولیم لیوی میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ موجود ہے،تنخواہ دار طبقے کےلئے ٹیکس میں کمی قابل ستائش ،متوسط طبقے کو کچھ ریلیف ملے گا۔
لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ نے بجٹ کو صنعتی شعبے کےلئے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ایز آف ڈوئنگ بزنس و صنعتی ترقی کےلئے کوئی نمایاں اقدامات سامنے نہیں آئے۔
بجٹ میں صنعت، زراعت اور ایس ایم ایز کو نظر انداز کیا گیا، لاہور چیمبر



















