امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر حملے،دھمکیاں،آبنائے ہرمز بند


تہران،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)جنگ کے شعلے پھر بھڑک اٹھے،امریکہ،ایران کے ایک دوسرے پر حملے،دھمکیاں،تہران نے آبنائے ہرمز بند کردی۔

امریکہ کی جانب سے حملوں کی نئی لہر شروع کیے جانے کے بعد تہران، قیشم، بندرعباس، سیرک اور میناب دھماکوں سے گونج اٹھے،امریکی سینٹ کام نے کہاحملے امریکی افواج و تجارتی جہازوں کےلئے خطرے کے جواب میں کیے گئے،ایران میں متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، ریڈار سسٹم ،مواصلاتی نظام کو تباہ کردیا۔

ایرنی خبررساں ایجنسی کے مطابق بحیرہ عمان میں ایرانی مال بردار کشتی کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تاہم عملے کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا،گورنر کے مطابق ضروری سامان لے جانےوالی کشتی عمان کے شہر خصب سے آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے ایرانی شہر سیرک کی جانب جا رہی تھی،خصب سے تقریباً 5 بحری میل کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا ،سوار 5 افراد پر مشتمل عملے کو قریبی جہازوں کی مدد سے بچا کرعمان منتقل کر دیا ۔

دوسری جانب پاسداران انقلاب نے کویت، اردن اور بحرین میں امریکی اہداف پر حملے کئے ،عراقی شہر اربیل میں امریکی اڈے پر بھی میزائل داغے گئے،خاتم الانبیا کمانڈ نے کہا نئے امریکی فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا،آبنائے اب ہر قسم کے جہازوں کےلئے مکمل طور پر بند ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پرشدید حملوں کااعلان کرتے ہوئے کہاہے تہران کی بحریہ، فضائیہ، ریڈار نظام، فضائی دفاع و دیگر دفاعی صلاحیتوں سمیت بیشتر جارحانہ عسکری قوت ختم ہو چکی ،امریکہ مستقبل قریب میں جزیرہ خارگ،ایران کے دیگر اہم تیل انفراسٹرکچر مقامات کا کنٹرول سنبھال لے گا اور ایران کی تیل و گیس منڈیوں کا مکمل انتظام سنبھالنے کی پوزیشن میں ہوگا۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا امریکہ وینزویلا میں بھی ایسا کرچکا ،نتیجہ امریکہ اور وینزویلا دونوں کےلئے بہت اچھا رہا،ابھی ایران سے بات چیت کر رہے ہیں،مایوس نہیں ہوں، ہوسکتا ہے تاریخ کا سب سے عظیم معاہدہ طے پائے،فوری معاہدہ طے کرنا چاہتا ہوں۔

امریکی صدر نے کہاایران کے خارگ جزیرے پر قبضے کو بہتر سمجھتا ہوں، ایران معاہدے کےلئے بات چیت کر رہا لیکن بہت مغرور ہے،یقین سے کہتا ہوں ایران کے پاس تقریباً 20 فیصد ہتھیار رہ گئے ۔


ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے واضح کردیا امریکہ کو جارحیت کے جواب میں سخت و درد ناک جواب دیا جائے گا۔

صدر مسعود پزشکیان نے کہا اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دینا طاقت کا مظاہرہ نہیں ،بے بسی کی علامت ہے، ایران اپنے ماہرین کے علم و صلاحیتوں، قومی اتحاد اور یکجہتی پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی بھی دباﺅ یا خطرے کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گا۔

ایرانی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ وخارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان نے کہا عظیم ایرانی قوم کسی کے سامنے جھکنے والی نہیں، امریکہ کو جنگ میں ہتھیار ڈالنا ہوں گے،صدر ٹرمپ کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا امریکی حملوں نے جزوی جنگ بندی کو ختم کردیا ،مذاکرات بے معنی و غیر موثر ہو کر رہ گئے ،غیر قانونی و خطرناک حملوں کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری خود امریکہ و حملوں میں شریک ہر فریق ،سہولت کار پر عائد ہوتی ہے،

پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی پاسداری اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور دیتے ہوئے ایران امریکہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کردیا۔

دفتر خارجہ نے کہا ضبط و تحمل کامظاہرہ کریں،پاکستان مسائل کے پرامن حل کا خواہاں ہے،تنازعات کے حل کےلئے مذاکرات ،سفارتکاری کا راستہ اختیار کیاجائے،خطے کے تمام دیرینہ مسائل کا حل صرف بات چیت ،سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔