تہران،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)امریکی حملوں میں30 سے زائد ایرانی شہری ،7 فوجی شہید، تہران نے بھرپور جواب دینے کااعلان کردیا۔
سینٹ کام نے کہاایران کےخلاف حملوں کی نئی لہر مکمل کرلی،90منٹ تک جاری رہنے والی کارروائی میںتنب جزیرے پر دفاعی نظام، میزائلوں کے ذخائر، لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنایا،حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کرنے کی ایرانی صلاحیت کو مزید کمزور کرنا ہے۔
دریں اثناترجمان ایرانی حکومت فاطمہ مہاجرانی نے کہاایران کے جنوب میں حالیہ دنوں میں ہونےوالے امریکی حملوں میں 2 خواتین سمیت 30سے زائد شہری شہید،260 سے زائدزخمی ہوگئے،18سال سے کم عمر بچے بھی شامل ہیں،سوگوار خاندانوں سے تعزیت ،ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق ہونےوالوں کی یاد کو سلام پیش کرتے ہیں،حکومت پوری طاقت سےعوام کےساتھ کھڑی رہے گی۔
علاوہ ازیں ایرانی فوج نے کہا امریکہ کی جانب سے جنوب مشرقی ایران میں فوجی اڈے پر کئے گئے میزائل حملوں میں 7 فوجی شہید ،متعدد اہلکار زخمی ہوگئے ،حملہ سیستان و بلوچستان صوبے کے علاقے ایران شہر کے قریب واقع بمپور گیریژن پر کیا گیا، امریکی میزائلوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا،مجموعی طور پر 13 امریکی میزائل فوجی بیرکوں پر داغے گئے،کارروائی بزدلانہ جارحیت ہے،مناسب وقت پر بھرپور جواب دینگے،شہدا کے خون کا بدلہ یقینی ہے،کارروائی کو بغیر جواب کے نہیں چھوڑا جائے گا۔
ادھر عمانی ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے تجارتی جہاز سے لاپتہ ہونےوالے بھارتی میرین انجینئر کی لاش برآمد کر لی گئی ،30 سالہ ہیرمب کرمارکر کا شہر پونا سے تعلق ،قبرص کے پرچم بردار تجارتی جہاز جی ایف ایس گلیکسی پر بطور میرین انجینئر خدمات انجام دے رہا تھا۔
مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا معاہدہ نہ کیا تو اگلے ہفتے ایران کے بجلی گھروں، پلوں کو نشانہ بنائیں گے،حملے تب تک جاری رہیں گے جب تک میں نہ کہوں اب کافی ہے،ایران میں ابھی کچھ جنگ لڑنے کی صلاحیت باقی ہے لیکن بہت زیادہ نہیں، مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کیاجائےگا،امریکی نمائندوں نے منگل کے روز ایران کےساتھ مذاکرات کیے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا اپنے وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کریں گے،ٹرمپ بتائیں کیا میدان جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کر لیے؟ ایران کو تقسیم کرنے کی کوشش کرنےوالے بتائیں آخر حاصل کیا ہوا؟۔
علاوہ ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ بلومبرگ کے مطابق آبنائے ہرمز کی امریکی بحری ناکہ بندی کے آغاز کے بعد 2 ایرانی تیل بردار ٹینکروں نے اپنا رخ پاکستان کے شہر کراچی بندرگاہ کی طرف کرلیا،رانی اور امیل نامی ٹینکرز پرمجموعی طور پر 10 لاکھ بیرل خام تیل ہے۔
دریں اثنا امریکی وزارت خزانہ نے ایران کی شپنگ سے منسلک 50 افراد، اداروں ،بحری جہازوں پر پابندیاں ،مرکزی بینک سے منسلک 13 کروڑ ڈالر سے زائد مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دئیے، اقدام کا مقصد ایرانی سرگرمیوں کی مالی معاونت کیلئے ڈیجیٹل اثاثوں کے استعمال کو روکنا ہے۔
امریکی حملے،30 سے زائد ایرانی شہری ،7 فوجی شہید،بھرپور جواب دینگے،ایران


















