لاہور:( خبر نگار)وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے نظام ری سیٹ کرنا ضروری، نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے،کوئی نہیں روک سکتا، فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہئے۔
یو ایم ٹی میں قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہاملکی نظام بہتر بنانے کےلئے سسٹم ری سیٹ کی ضرورت تاہم مطلب نظام توڑنا نہیں ،غلطیوں کو درست کرنا ہے،جذباتی نہ ہوں،نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام کی خواہش، آئین کے تقاضوں ، قومی اتفاق رائے کی بنیاد پر ہونا چاہیے، تمام کام آئین کے اندر رہ کر ہی کرنا ہوگا، عوام نئے انتظامی یونٹس کے حق میں ہیں تو ضرور بنیں گے ورنہ نہیں،کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے یونٹس کو روک نہیں سکتی،نوکری پر رہوں یا نہ پیچھے نہیں ہٹوں گا،ملکی مسائل کا حل سیاسی ، مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی ناگزیر ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا نئے اضلاع بن سکتے ہیں تو صوبے کیوں نہیں ؟ انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے، کوئی فرد، جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے،حکومتیں و پالیسیاں بدلتی رہی ہیں، اصل سوال ہے عوام کو ڈیلیوری کتنی مل رہی ہے، 79 سال بعد بھی شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور انصاف جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں تو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
سابق صوبائی وزیر اور پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے سرپرست ابراہیم حسن مراد نے کہا آزادی کے باوجود پاکستان میں اب بھی نوآبادیاتی طرز کا انتظامی نظام موجود ،ملک کو درپیش تمام بڑے مسائل کا حل سیاسی ہے،80 سال گزرنے کے باوجود گورننس کی خامیاں دور نہیں کر سکے، شہریوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کےلئے اختیارات کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہوگا۔
ابراہیم مراد نے کہا مقامی مسائل کا حل زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تلاش کیا جانا چاہیے،ملکی آبادی آزادی کے وقت کے مقابلے میں تقریباً 7گنا بڑھ چکی لہٰذا موجودہ انتظامی ڈھانچے پر نئے تقاضوں کے مطابق غور ضروری ہے،قائداعظم نے 1948 میں واضح کیا تھا سب پاکستانی ہیں، سندھی، بلوچی اور پشتون ،پاکستان کے بڑے صوبوں کا انتظامی حجم بھی غیر معمولی ، پنجاب ایران ، جرمنی سے بڑا ، سندھ شمالی کوریا سے بڑا صوبہ ،خیبر پختونخوا پولینڈ سے بڑا ہے، بڑے شہروں میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں لیکن چھوٹے شہروں ،دور دراز علاقوں کو یکساں سہولیات میسر نہیں، بنگلہ دیش میںپیدا ہونے والے سیاسی بحران کی وجوہ میں اختیارات کا حد سے زیادہ وفاق کے پاس مرتکز ہونا بھی شامل تھا۔
سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا نئے صوبے بنانے سے پہلے رول آف لا قائم کرنے کی ضرورت ہے، آئین کی حکمرانی قائم کیے بغیر نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی فائدہ نہیں، صوبے بنانے کا شوق ہے تو بنا لیں،جھگڑا ہی بڑھے گا۔
سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے کہا اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے تاہم تمام اقدامات دستوری ڈھانچے کے اندر رہ کر کیے جانے چاہئیں۔
سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا تمام اداروں ،سیاسی جماعتوں کو آئین کی حکمرانی تسلیم کرنی چاہیے، غیر جانب دار الیکشن کمیشن ، موثر انتخابی اصلاحات وقت کی ضرورت ہیں تاکہ عام آدمی بھی سیاسی عمل میں آگے آ سکے،سیاسی نظام کی ری سٹرکچرنگ، صوبائی فنانس کمیشنزکے قیام، طلبہ یونینز کی بحالی اور بلدیاتی اداروں کو اختیارات و مالی وسائل کی فراہمی ضروری ہے،پنجاب کو تقسیم کیا جاتا ہے تو دیگر صوبوں میں بھی انتظامی تقسیم پر غور ہونا چاہیے۔
سینئر صحافی حامد میر نے کہا بری گورننس نئے صوبے بنانے سے نہیں بلکہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے سے ختم ہوگی،ن لیگ ماضی میں بہاولپور ، جنوبی پنجاب صوبوں کی حامی رہی ،خیبر پختونخوا اسمبلی 4 مرتبہ صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد منظور کر چکی،4صوبوں سے 8تو آئین کے اندر رہ کر قائم کیے قائم کیے جا سکتے ہیں،اسلام آباد کو فوری صوبہ بنانے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
صحافی فہد حسین نے کہا پاکستان بننے کے بعد تقریباً 80 برس میں انسانی ترقی کے اہداف مکمل نہیں ہو سکے،کروڑوں بچے سکولوں میں داخل نہیں اور لاکھوں بچے غذائی قلت ، نشوونما میں کمی کا شکار ہیں۔
وفاقی وزرا چودھری سالک ،خالد مقبول صدیقی، وزیر مملکت عون چودھری،معروف قانون دان احسن بھون، سابق صوبائی وزیر ایس ایم تنویر، سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود اور صدر کسان اتحاد خالد کھوکھر سمیت دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔
نظام ری سیٹ کرنا ضروری، نئے انتظامی یونٹس بن کر رہیں گے،کوئی نہیں روک سکتا،محسن نقوی


















