لاہور ( میاں ساجد سے )پنجاب میں فالج کے مریضوں کو بروقت تشخیص اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کیلئے محکمہ صحت کے تحت قائم کئے گئے 40 پرائمری سٹروک سینٹرز مکمل طور پر فعال ہو گئے ہیں، جہاں فالج کے مریضوں کے علاج کیلئے تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ تعینات ہے جبکہ 710 ٹی این کے (Tenecteplase) انجکشنز بھی دستیاب ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹروک پروگرام کے تحت اب تک 336 فالج کے مریضوں کو بروقت علاج فراہم کرکے مستقل معذوری سے محفوظ کیا گیا حکومت پنجاب نے صوبہ کی سطح پر ہر ڈویڑن میں سٹروک سنٹر قائم جبکہ اس کے علاوہ 17 مراکز کو مزید فعال کرنے کے ہدف کو بھی مکمل کر لیا گیا۔ا ن خیالات کا اظہار ترجمان محکمہ صحت پنجاب نے روزنامہ مشرق سے خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھاکہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویڑن کے مطابق فالج کے مریضوں کیلئے بر وقت طبی امداد اور ان کے علاج کو اہم قرار دیتے ہوئے اس مرض میں مبتلا مریضوں کو اہم قرار دیتے ہوئے طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنا یا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی احکامات سے محکمہ صحت کی جانب سے جانب سے سٹروک کیئر نیٹ ورک کو ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں تک دائرہ کار وسیع کیا گیا ہے۔ چونکہ فالج کا حملہ ہونے کے بعد مریض کو ابتدائی تشخیص اور موزوں صورت میں فوری علاج اپنے قریبی مرکز پر میسر آسکے، جس کے بعد ضرورت پڑنے پر اسے جامع سٹروک سینٹر منتقل کیا جا سکے۔ موجودہ نظام میں پرائمری مراکز فوری علاج اور ابتدائی مینجمنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ پیچیدہ مریضوں کیلئے جامع مراکز اعلیٰ سطح کی نیورو میڈیکل اور انٹروینشنل سہولیات فراہم کرتے ہیں۔لاہور میں سات پرائمری سٹروک سینٹرز لاہور میں سروسز ہسپتال، میو ہسپتال، سر گنگا رام ہسپتال، جناح ہسپتال، جنرل ہسپتال، چلڈرن ہسپتال اور شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال میں پرائمری سٹروک سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ ان مراکز میں تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ فالج کے مریضوں کے فوری علاج کے لیے24 گھنٹے ڈیوٹی پر معمور ہیں جبکہ لاہور کے علاوہ نشتر ہسپتال ملتان، علامہ اقبال ہسپتال سیالکوٹ، شیخ زاید ہسپتال رحیم یار خان، ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی، الائیڈ ہسپتال فیصل آباد، بہاول وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور اور علامہ اقبال ہسپتال ڈیرہ غازی خان میں بھی فالج کے فوری علاج کیلئے انجیکشنز کی دستیابی رپورٹ کی گئی ہے۔ضلعی سطح پر بھی سٹروک کیئر نیٹ ورک قائم محکمہ صحت کے پروگرام کے تحت ڈی ایچ کیو ہسپتال شیخوپورہ، منڈی بہاو¿الدین، قصور، خانیوال، وہاڑی اور ملتان میں پرائمری سٹروک سینٹرز فعال کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ بھکر، لیہ، گوجرانوالہ، نارووال، جھنگ، جہلم، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ساہیوال اور گجرات کے ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں فالج کے علاج کیلئے ضروری انجیکشن دستیاب ہیں۔ چلڈرن ہسپتالوں اور دیگر قائم مراکز جن میں چلڈرن ہسپتال ملتان، چلڈرن ہسپتال فیصل آباد، صادق عباسی ہسپتال بہاولپور، نشتر-II ملتان، ٹیچنگ ہسپتال سرگودھا اور الائیڈ ہسپتال-II فیصل آباد میں بھی سٹروک کیئر سے متعلق مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ اس توسیع کا مقصد صوبے کے مختلف علاقوں میں فالج کے مریضوں کو علاج کی سہولت ان کے قریب فراہم کرنا ہے۔مرکزی جامع سٹروک سینٹرز کے حوالہ سے ترجمان محکمہ صحت نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز لاہور (PINS) اور راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (RIC) میں جامع سٹروک سینٹرز فعال ہیں۔ یہ مراکز پرائمری سطح پر آنے والے ایسے مریضوں کیلئے ریفرل پوائنٹ کا کردار ادا کرتے ہیں جنہیں زیادہ پیچیدہ تشخیص، نیورو سرجیکل یا نیورو انٹروینشنل علاج کی ضرورت میسر ہوتی ہے۔ ان کو ان مرکزی یونٹ میں ریفر ل کی سہولت دی گی ہے۔ انہوں نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے قائم سٹروک سنٹرز اور مراکز میں تربیت یافتہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ 24 گھنٹے موجود ہے۔وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے خصوصی احکامات سے اب تک 336 فالج کے مریضوں کو بر وقت طبی سہولیات اور علاج کے بعدمستقل معذوری سے بچایا گیا ہے۔ یہ 336 وہ مریض ہیں فالج کے حملہ کے بعد ہنگامی بنیادوں پر حکومت کی جانب سے قائم سٹروک سنٹرز پر پہنچے ہیں جن کا بروقت علاج بھی ہوا ہے اور ان فالج کے مریضوں کو بروقت مستقل معذوری سے محفوظ بنایا گیا ہے۔ موجود ہے۔336 مریض مستقل معذوری سے محفوظ وزیراعلیٰ پنجاب کے سٹروک پروگرام کے حوالے سے اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک 336 مریضوں کو فالج کے حملے کے بعد بروقت متعلقہ سٹروک سینٹر پہنچنے وہ اب صحت مند زندگی بسر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو دعائیں دے رہے ہیں۔
پنجاب، 40 پرائمری سٹروک سینٹر فعال، 710 ٹی این انجکشن دستیاب



















