لاہور( میاں ساجد) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے بے روزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے ایک بڑے اقدام کے تحت ”گرین ٹیکسی پروگرام“ اور ”ای ٹیکسی سکیم“ پر عملدرآمد تیز کر دیا ہے۔ پنجاب حکومت نے آئندہ چند برسوں میں صوبہ بھر میں 25 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ پہلے مرحلے میں 1,100 الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود اقساط پر نوجوانوں کو دی جا رہی ہیں۔حکومتی ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے اس منصوبے کیلئے اربوں روپے کی سبسڈی مختص کی ہے تاکہ بے روزگار نوجوان، لائسنس ہولڈر ڈرائیورز اور فلیٹ اونرز اپنے کاروبار کا آغاز کر سکیں۔ سکیم کے تحت 100 ٹیکسیاں انفرادی درخواست گزاروں، جبکہ ایک ہزار ٹیکسیاں فلیٹ اونرز کیلئے مختص کی گئی ہیں۔ فلیٹ اونرز کو زیادہ سے زیادہ 10 گاڑیوں تک حاصل کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے ای ٹیکسی سکیم کا آغاز جنوری 2025 میں کیا گیا تھا جبکہ 2026 میں اس منصوبے کو مزید وسعت دی گئی۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس منصوبے کیلئے 60 ہزار سے 66 ہزار تک درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جن کی جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے۔ پہلے مرحلے کی قرعہ اندازی مکمل کی جا چکی ہے اور منتخب ہونے والے 380 امیدوار اپنی ڈاون پیمنٹ جمع کرا چکے ہیں۔سکیم کے تحت گاڑیاں بلاسود اقساط پر فراہم کی جا رہی ہیں۔ درخواست گزاروں کیلئے ماہانہ قسط 10 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے جبکہ ادائیگی کی مدت پانچ سال رکھی گئی ہے۔ حکومت مرد درخواست گزاروں کی ڈاون پیمنٹ کا 50 فیصد جبکہ خواتین کی ڈاون پیمنٹ کا 60 فیصد حصہ خود ادا کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔گرین ٹیکسی پروگرام کے تحت جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ Honri VC20 اور Honri VC30 ماڈلز فراہم کیے جا رہے ہیں۔ VC20 ایک مرتبہ چارج ہونے پر تقریباً 200 کلومیٹر جبکہ VC30 تقریباً 300 کلومیٹر تک سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہر گاڑی میں مسافروں اور ڈرائیورز کی سکیورٹی کیلئے کیمرہ، وائی فائی، جی پی ایس ٹریکنگ اور پینک بٹن جیسی جدید سہولتیں شامل کی گئی ہیں۔ای ٹیکسی سکیم کیلئے اہلیت کے معیار کے مطابق درخواست گزار کا پنجاب کا مستقل رہائشی ہونا ضروری ہے، عمر 21 سے 45 سال کے درمیان ہو اور اس کے پاس قومی شناختی کارڈ کے ساتھ ایل ٹی وی ڈرائیونگ لائسنس موجود ہو۔ حکومت نے خواتین، بے روزگار نوجوانوں اور دیہی علاقوں کے رہائشیوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔ خواتین کیلئے کم از کم 30 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے، تاہم 2026 میں اس کوٹے میں مزید اضافے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔حکومت پنجاب صرف گاڑیاں فراہم کرنے تک محدود نہیں بلکہ الیکٹرک ٹرانسپورٹ کیلئے بنیادی ڈھانچے کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہر تین کلومیٹر کے فاصلے پر چارجنگ اسٹیشن قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ سرکاری حکمت عملی کے مطابق جون 2026 تک لاہور اور دیگر اہم شہروں میں 50 سے زائد جدید چارجنگ اسٹیشنز فعال کیے جائیں گے تاکہ ای ٹیکسی مالکان کو سہولت وزیراعلیٰ پنجاب کا یہ منصوبہ نہ صرف ہزاروں نوجوانوں کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ ایندھن کے درآمدی اخراجات میں کمی، ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے اور گرین اکانومی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ حکومتی حلقوں کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی ای بائیکس اور ای ٹیکسی منصوبوں کیلئے مزید فنڈز مختص کیے جانے کا امکان ہے تاکہ صوبے بھر میں بے روزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کی معاشی خودمختاری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
گرین ٹیکسی پروگرام اور ای ٹیکسی سکیم پر عملدرآمد تیز



















