لاہور (مرزا ندیم بیگ) محکمہ جیل خانہ جات پنجاب میں تبادلوں کے ایک متنازع معاملے نے کئی سوالات کو جنم دیدیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 6 مئی 2026 کو ڈی آئی جی جیل خانہ جات لاہور ریجن کی جانب سے جاری کئے گئے تبادلہ احکامات میں پانچ وارڈرز کو بغیر ٹی اے/ڈی اے جبکہ ایک ایسے وارڈر کو ٹی اے/ڈی اے کے ساتھ ٹرانسفر کر دیا گیا جو قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم ہونے کے باعث جیل میں بند ہے۔ ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق سیالکوٹ جیل میں تعینات وارڈر الیاس اپنے آبائی گاو¿ں میں ہونے والے ایک مسلح جھگڑے کے مقدمے میں نامزد ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے نتیجے میں مخالف پارٹی کا ایک شخص گولیاں لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ واقعہ کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے الیاس سمیت دیگر ملزمان کو نامزد کیا اور بعد ازاں اسے گرفتار کرکے جیل بھجوا دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ الیاس کی گرفتاری اور جیل میں بند ہونے کے باوجود لاہور ریجن آفس سے جاری ہونے والے تبادلہ احکامات میں اس کا نام بھی شامل کیا گیا۔ حیران کن طور پر دلدار، رفیق، فیض حسین، ذکاءاللہ اور انجم شہزاد سمیت دیگر وارڈرز کو بغیر ٹی اے/ڈی اے ٹرانسفر کیا گیا، جبکہ قتل کے مقدمے میں گرفتار اور جیل میں بند الیاس کو ٹی اے/ڈی اے کے ساتھ ٹرانسفر کئے جانے کا حکم جاری ہوا۔اس معاملے نے محکمانہ حلقوں میں کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ایک زیر حراست ملازم، جو عملی طور پر اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے رہا، اسے ٹی اے/ڈی اے کی سہولت کس بنیاد پر دی گئی جبکہ دیگر حاضر سروس ملازمین کو اس سہولت سے محروم رکھا گیا۔رابطہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ ڈسٹرکٹ جیل سیالکوٹ کاشف رسول نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں وارڈر الیاس کے مقدمے اور گرفتاری کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہیں تھیں۔ تاہم جب حقائق سامنے آئے تو انہوں نے فوری طور پر قواعد کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ ملازم کو معطل کر دیا اور پورا معاملہ لاہور ریجن آفس کو رپورٹ کر دیا۔کاشف رسول کے مطابق بعد ازاں لاہور ریجن سے تبادلے کے احکامات موصول ہوئے جن پر عملدرآمد کرتے ہوئے الیاس کو ریلیو کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بطور سپرنٹنڈنٹ میری جو ذمہ داری تھی، میں نے ادا کر دی۔ ملازم کی معطلی اور معاملے کی رپورٹ متعلقہ اعلیٰ حکام کو بھجوا دی گئی تھی، اس کے بعد کی کارروائی متعلقہ افسران کا اختیار ہے۔ دوسری جانب محکمہ جیل خانہ جات کے بعض حلقے اس معاملے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ جاننا ضروری ہے کہ آیا تبادلہ احکامات جاری کرتے وقت متعلقہ ملازم کی قانونی حیثیت اور زیر حراست ہونے کی صورتحال سے آگاہی موجود تھی یا نہیں، اور اگر تھی تو پھر ٹی اے/ڈی اے کی منظوری کس ضابطے کے تحت دی گئی۔محکمانہ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل وضاحت سامنے آنے تک اس تبادلے اور ٹی اے/ڈی اے کی منظوری کے حوالے سے سوالات برقرار رہیں گے۔ اگر تحقیقات میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
محکمہ جیل خانہ جات، تبادلوں کے متنازعہ معاملہ پر متعدد سوالات


















