محکمہ اوقاف میں ایک افسر کی مبینہ غیر قانونی کیڈر تبدیلی

لاہور (سپیشل رپورٹر) محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کے افسران کی نااہلی یا عدم دلچسپی، محکمہ اوقاف پنجاب میں ایک افسر کی مبینہ غیر قانونی کیڈر تبدیلی، مستقل تقرری اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات پر محکمہ انسدادِ بدعنوانی پنجاب کا کردار سوالیہ نشان بن گیا۔ بدعنوانی اور قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی شکایت موصول ہونے کے باوجود اینٹی کرپشن نے باقاعدہ انکوائری شروع کرنے کے بجائے معاملہ اسی محکمے کو بھجوا دیا جس کے افسران پر الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ اس اقدام نے شفاف احتساب، غیر جانبدار تحقیقات اور محکمہ انسدادِ بدعنوانی کی موثر کارکردگی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق شہری اعجاز احمد کی جانب سے محکمہ انسداد بدعنوانی پنجاب کو دی گئی درخواست میں محکمہ اوقاف کے ایک افسر محمد علی خان کی مبینہ غیر قانونی کیڈر تبدیلی، مستقل تقرری اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کی نشاندہی کی گئی تھی۔ تاہم حیران کن طور پر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے شکایت میں عائد سنگین الزامات پر خود انکوائری کا آغاز کرنے یا ابتدائی حقائق کی جانچ پڑتال کیلئے آزادانہ تحقیقات کرنے کے بجائے شکایت نمبر CC-822/26/7873 اور ڈائری نمبر 3297 مورخہ 16 مارچ 2024 کے تحت معاملہ محکمہ اوقاف پنجاب کے ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن) کو ارسال کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی۔ مبصرین کے مطابق انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کا بنیادی فریضہ ایسے معاملات میں غیر جانبدارانہ انکوائری اور ذمہ داران کے تعین کیلئے آزاد تحقیقات کرنا ہوتا ہے تاہم موجودہ کیس میں شکایت کو باضابطہ انکوائری میں تبدیل کرنے کے بجائے متعلقہ محکمہ کو بھیج دینا احتسابی عمل کی شفافیت پر سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق محمد علی خان کو سال 2014 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پبلک ریلیشنز آفیسر کے عہدے پر بھرتی کیا گیا تھا، لیکن بعد ازاں مبینہ طور پر قواعد و ضوابط کے برعکس ان کا کیڈر تبدیل کرکے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ظاہر کیا گیا اور اسی بنیاد پر مستقل تقرری سمیت مختلف انتظامی فوائد حاصل کیے گئے۔ شکایت میں مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس تمام عمل کے دوران محکمہ کے بعض انتظامی افسران نے مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرتے ہوئے مجاز اتھارٹی سے مطلوبہ احکامات حاصل کیے اور قواعد کی خلاف ورزیوں کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ دوسری جانب اینٹی کرپشن کی جانب سے شکایت کو براہِ راست انکوائری میں تبدیل کرنے کے بجائے متعلقہ محکمہ کے سپرد کئے جانے کے بعد اب تمام نظریں محکمہ اوقاف کی داخلی تحقیقات اور اس کی سفارشات پر مرکوز ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ معاملہ نہ صرف محکمانہ کارروائی بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کے تناظر میں مزید قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ تاحال محکمہ اوقاف یا نامزد افسران کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مو¿قف سامنے نہیں آیا۔