پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ جدید سہولیات سے آراستہ ادارہ ہے :پروفیسر عائشہ رشید

لاہور ( انٹرویو: میاں ساجد /عکاسی: میاں شاہنواز)بہبود مریضاں کیلئے ہمہ وقت کوشاں ہونا میرا وہ فرض جو اللہ نے مجھے تفویض کیا پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میری مادری علمی جس سے اپنے کئیریئر کا آغاز کیا اب میرے والدین کی دعاﺅں نے مجھے اس کی سربراہی نصیب ہونا میرے لئے اعزاز جس کو لفظوں میں بیان کرنا ناکافی ہے۔ وزیرا علیٰ پنجاب کی ویژن کے مطابق قدیم پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اب الحمداللہ جدت سے اہم آہنگ ادارہ ہے یہاں مریضوں کیلئے علاج و معالجہ میں لمحہ کی تاخیر نہیں۔ ذہنی امراض میں مبتلا مریضوں کی مثبت صحت کی واپسی کیلئے میری ٹیم میرے رفقاءکار سمیت سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگ زیب کی خصوصی شفقت میرے لئے باعث فخر ہے۔ اب الحمداللہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں RTMS مشین ، سی ٹی سکین مشین اور ایم آر آئی مشین کو جلد نصب کر دیا جائیگا جو ذہنی صحت کے مریضوں کیلئے بہت بڑی خوشخبری اور ان کو صحت یاب کرنے کی نوید ہے۔ صوبائی وزیر محکمہ صحت خواجہ سلمان رفیق اور سیکرٹری صحت عظمت محمود نے ہمیشہ مریضوں کیلئے کیے جانے انتظامات نہ صرف سراہا ہے بلکہ حوصلہ افزائی بھی ہے۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں داخل مریضوں کو تین وقت کھانا ، رہائش اور مفت ادویات کی فراہمی پنجاب گورنمنٹ کا بہت بڑا اقدام تاریخ ساز اقداما ت ہیں۔ ان خیالات اظہار ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رشید کی روزنامہ مشرق سے خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ1510 بیڈز پر مشتمل ہے جس میں 400 بیڈز خواتین مریضوں کیلئے مختص کیے گے ہیں۔ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ خواتین مریضوں کیلئے نہ صرف کردار ادا کر رہا ہے بلکہ ان خواتین مریضوں کیلئے مختلف پروگراموں کے تحت انہیں خود کفیل بنانے میں پیش پیش ہے۔ مریض خواتین کیلئے ویلنس کلب نہ صرف محترک ہے بلکہ ان مریضوں آرٹ ، کیلی گرافی ، آرٹ فیشل جیولری بنانے کے ہنر سے بھی آشنا کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں سر گرم ہے۔ ویلنیس کلبایک ایسا جامع اور ہمدردانہ پلیٹ فارم ہے جو ذہنی صحت کے فروغ، علاجی سرگرمیوں اور سماجی ہم آہنگی کے ذریعے افراد کی مجموعی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ یہ کلب آرٹ اور میوزک تھراپی، مائنڈفلنیس، گروپ کونسلنگ، کھیلوں اور ثقافتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ سیمینارز، ورکشاپس اور آگاہی پروگرامز کا انعقاد کرتا ہے، جس سے مریضوں کی نفسیاتی و سماجی بحالی، خوداعتمادی اور معاشرتی شمولیت کو فروغ ملتا ہے۔ ہماری نمایاں سرگرمیوں میں عید کی تقریبات، مریضوں کے تفریحی دورے ، گل داﺅدی، نمائش کا وزٹ، پارکس کی سیر، لاہور کے مختلف مقامات کی سیر ، آگاہی واکس اور دیگر کمیونٹی انگیجمنٹ پروگرامز شامل ہیں، جو نہ صرف خوشی اور مثبتیت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مریضوں کو معاشرے سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مزید برآں، ویلنیس کلب عملے کیلئے اسٹریس مینجمنٹ، ٹیم بلڈنگ اور فلاحی سرگرمیوں کے ذریعے ایک صحت مند اور معاون ماحول فراہم کرتا ہے۔جس کا اہم مقصد ایک ایسی کمیونٹی تشکیل دینا ہے جہاں دیکھ بھال، امید اور شفا ہر فرد کا حق بنے۔ جب کے اس علاوہ ٹیلی سیکاٹری سسٹم ہے جس کو اوپی ڈ یز میں رائج کیا گیا ہے۔ جس کے تحت پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ سے زیر علاج مریضوں کا اون لائن چیک اپ بھی کیا جاتا ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے ہی ہمارے ڈاکٹرز کی خدمات سے مستفید ہو سکیں۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رشید نے مزید بتاتے ہوئے کہا کہ خواتین مریضوں کیلئے ویکینشل سکلز کے کئی پروگراموں کے تحت ان کو ہنر مند بنایا تاکہ وہ اپنے علاج کے بعد گھروں میں ان سیکھے ہوئے کورسز کے ذریعہ خود کفیل بن سکیں۔ جس میں خواتین کو خصوصی طور ہینڈ میڈ جیولیری ، آرٹ کے کام کیلئے ماہر بنایا جاتا ہے۔ جو ان کو خود کفیل بنانے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کی عملی کاوش ہے جس پر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ نہ صرف کوشاں ہے بلکہ اس حوالے سے ان کے خصوصی سیشنز کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رشید نے بتاتے ہوئے کہا کہ پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ داخل مریضوں کے حوالہ سے جو کردار ادا کر رہا ہے جس کو قلم و قرطاس کی نوک بیان کرنے سے قاصر ہے کہ ہمارے پاس بہت سے مرد و خواتین مریض ہمارے پاس رہائش پذیر ہیں۔ جن کو اپنے خون کے رشتے ہمارے سپرد کرکے رو پوش ہو گے ہیں۔ جن کو ڈھونڈنا ہمارے لئے نہ صرف مشکل ہے بلکہ یہ ایسی روداد ہے جس کو بیان کرنے سے آنکھیں نم ہو جاتے ہیں۔ کہ ذہنی صحت کے واپسی کیلئے وہ ہمارے پاس علاج کیلئے آئے اور دوبارہ ہمارے پاس داخل کروانے والے ان مریضوں سے لا تعلق ہو گے۔ جس کو بے حسی کہا جائے تو یہ چھوٹا لفظ ہے۔ جس کا معاشرتی طور پر تجزیہ کیا جائے تو ماسوائے افسو س کے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ہمارے مسلم معاشرے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جن میں ذرا بھی احساس نہیں کہ ہم کسی اپنے کو پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ میں داخل کروا کر آئے تھے اور ان کی واپس اپنے گھر بھی لے کر جانا ہے۔ ہمارے پاس کئی مریض اپنی جوانی میں اپنے علاج کیلئے داخل ہوئے تھے لیکن ان کے بال سفید ہو گے ان کے اپنے آج تک واپس نہیں آئے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹیٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ پروفیسر ڈاکٹر عائشہ رشید نے مزید کہا کہ اس کیلئے سیف سٹی کے مشترکہ اشتراک سے اس پر دن و رات کام کیا جا رہا ہے جس کیلئے الگ سے کمیونٹی سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ جس میں مریضوں کے لواحقین کو روزانہ کی بنیاد پر تلاش جاری ہے۔ جس میں نادرہ کی خصوصی معاونت سے ہم ایسے گھروں میں مریضوں کو چھوڑ کر آئے ہیں جن کو ان کے گھر والے ہمارے پاس علاج کیلئے چھوڑ کر راہ فرار حاصل کر چکے تھے۔ کمیونٹی سنٹر کی عملی کاوشیں روزانہ کی بنیاد پر جاری و ساری ہے۔