ضلعی حکومتوں کی عدم دلچسپی، ”پنجاب میرج فنکشن آرڈیننس“ پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر

لاہور (قاضی ندیم اقبال) شادیوں کا سیزن عروج پر پہنچتے ہی شکایات میں اضافہ سامنے آ گیا۔ ضلع اورتحصیل ہیڈ کوارٹرز کی سطح پر سامنے آنے والی شکایات کے پیش نظر صوبائی حکومت نے ”پنجاب میرج فنکشن آرڈیننس“ کے تحت صوبہ بھر میں کارروائیوں کے احکامات جاری کر دئیے۔ ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کو مختلف حوالوں سے سامنے آنے والی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بیشتر ضلعی حکومتوں کی عدم دلچسپی کی بدولت وقت گذرنے کیساتھ ساتھ ”پنجاب میرج فنکشن آرڈیننس“ پر عملدرآمد کروانے کی شرح میں تسلسل کے ساتھ کمی آتی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے صوبہ کے 24 اضلاع جن میں راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم،گجرات، منڈی بہاو الدین، نارووال، حافظ آباد، فیصل آباد، سرگودھا، خانیوال، خوشاب، میانوالی، بھکر، جھنگ، ملتان، لودھراں، مظفر گڑھ، وہاڑی، لیہ، رحیم یار خان، بہاولپور، بہاولنگر، راجن پور کے نام شامل ہیں، ان اضلاع میں صورتحال اچھی نہیں دکھائی دیتی ہے۔ ان اضلاع میں چیک اینڈ بیلنس صرف نام کی حد تک ہے۔ جوں جوں صوبائی دارالحکومت سے دور ہوتے جائیں ”پنجاب میرج فنکشن آرڈیننس“ پر عمل درآمد کروانے کی شرح میں بھی کمی ہوتی جاتی ہے۔ان علاقوں میں با اثر افراد با اختیار ہیں اور شادی تقاریب نہ صرف مقررہ اوقات کے بعد بھی جاری رہتی ہیں۔ بااثر افراد کے شادی گھروں، مارکیز کیساتھ ساتھ بڑے بڑے فارم ہاوسز میں منعقد کی جانیوالی تقاریب پر”پنجاب میرج فنکشن آرڈیننس“ لاگو دکھائی نہیں دیتا۔ ون ڈش کی بھی خلاف ورزی کی جا تی ہے۔ جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کروانے کے پابند سرکاری ادارے بہت حد تک غیر فعال دکھائی دیتے ہیں۔ذرائع کے مطابق مختلف حوالوں سے سامنے آنیوالی رپورٹس کا چیف سیکرٹری پنجاب نے سخت نوٹس لیا ہے اور صوبائی حکومت نے پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو میرج فنکشن آرڈیننس کے موثر اطلاق کو یقینی بنانے کیلئے انسٹیٹیوشنل میکا نزم کے مطابق کام ہر صورت یقینی بنانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ گھروں، میرج ہالز، ہوٹلوں، کلبوں، ریسٹورنٹس، کمیونٹی سنٹرز، فارم ہاوسز اور اوپن جگہوں پر شادی کی تقریب کیلئے لگائی گئی مارکیز میں شادی اور اس سے منسلک سہرابندی یا مہندی وغیرہ کی تقریبات کو رات 10 بجے تک بند کروا دی جائیں۔ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت نے مہمانوں کی تواضع کیلئے ون ڈش تک محدود رہنے کے قانون پرپوری طرح عملدرآمد کرانیکا حکم بھی از سر نو دےدیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ شادی ہال، مارکیز یا ریسٹورنٹ کے مالکان اور منیجرز کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت قانونی کارروائی عمل میں یقینی بنائی جائے۔