لاہور (میاں ذیشان)محکمہ انسدادِ رشوت ستانی نے داتا گنج بخش زون میں تعینات رہنے والے شعبہ پلاننگ کے افسران اور بلڈنگ انسپکٹرز کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا۔ مذکورہ ملازمین پر میٹروپولٹن کارپوریشن بلڈنگ بائی لاز کی سنگین خلاف ورزیوں، بددیانتی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت ہونے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ رہائشی ایریا ظاہر کر کے نقشہ پاس کروا کر غیر قانونی کمرشل تعمیرات میں معاونت فراہم کر کے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ ڈپٹی کمشنر لاہور نے الزامات ثابت ہونے پر ریفرنس بنا کر اینٹی کرپشن لاہور کو ارسال کر دیا، جبکہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ کے انداج کے بعد تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے ملزمان کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر / ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن لاہور نے اختیارات کے ناجائز استعمال، بد عنوانی اور غیر قانونی کمرشل تعمیرات میں معاونت فراہم کرنے پر داتا گنج بخش ٹاﺅن میں تعینات رہنے والی خاتون افسران آمنہ جاوید، سمیرا چوہان جبکہ بلڈنگ انسپکٹر محمد بلال اور تنویر سمیت مفاد کنندہ راشد خان پر الزامات ثابت پر سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف ریفرنس محکمہ انسداد رشوت ستانی کو بھجوایا گیا تا کہ کرپٹ سرکاری افسران و ملازمین کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی نے سرکاری مدعیت میں ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے ملزمان کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری مدعیت میں درج ہونیوالی ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے جس کے مطابق راشد خان ولد شرافت اللہ نے پراپرٹی رقبہ تعدادی 1 کنال واقع راج گڑھ عمر روڈ اسلام پورہ لاہور کی بابت درخواست بمعہ نقشہ برائے رہائشی مکان تین منزلہ نمبر B.A.NO.24-DGBZ-20 مورخہ 02.09.2020 داتا گنج بخش ٹاﺅن لاہور جمع کروائی۔ بلال بلڈنگ انسپکٹر نے موقع کی بابت رپورٹ کی اور سمیرا چوہان اے ایم او نے نقشہ کی منظوری کیلئے مزمل اشتیاق ایم او پی داتا گنج بخش ٹاﺅن لاہور کو تحریر کیا مزمل اشتیاق نے نقشہ منظور کیا اور سمیرا چوہان نے سینکشن لیٹر جاری کیا۔ نقشہ منظور کے بعد بلال بلڈنگ انسپکٹر اور سمیرا چوہان کی ذمہ داری تھی کہ بلڈنگ کو چیک کرتے ہوئے نقشہ کے مطابق بلڈنگ کی تعمیر کو یقینی بناتے نقشہ کی خلاف ورزی ہو رہی تھی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے لیکن بلال بلڈنگ انسپکٹر اور سمیرا چوہان کی ملی بھگت سے راشد خان مفاد کنندہ نے رہائشی مکان کی بجائے 4 منزلہ کمرشل پلازہ تعمیر کر لیا جس سے گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس طرح محمد راشد خان ولد شرافت اللہ خان نے رقبہ تعدادی 11 مرلہ 57 مربع فٹ پر رہائشی نقشہ کی بابت درخواست نمبر 161/DGBZ-21 مورخہ 18-05-21 داتا گنج بخش ٹاﺅن لاہور گزار۔ تنویر بلڈنگ انسپکٹر نے موقع کی بابت رپورٹ کی اور آمنہ جاوید اے ایم او پی داتا گنج بخش ٹاﺅن لاہور نے نقشہ کی منظوری کے لئے ایم او پی کو تحریر کیا مزمل اشتیاق نے نقشہ منظور کیا۔ آمنہ جاوید نے سینکشن لیٹر جاری کیا۔ نقشہ منظوری کے بعد اے ایم او پی اور بلڈنگ انسپکٹر کی ذمہ داری تھی کہ بلڈنگ کو چیک کرتے اگر کوئی نقشہ کی خلاف ورزی ہو رہی تھی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لاتے لیکن تنویر بلڈنگ انسپکٹر اور آمنہ جاوید کی ملی بھگت سے راشد خان مفاد کنندہ نے رہائشی نقشہ کی بجائے 4 منزلہ کمرشل پلازہ تعمیر کروایا گیا جس سے گورنمنٹ کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ محکمہ انسداد رشوت ستانی نے الزامات میں صداقت ہونے پر ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے ملزمان کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا ہے۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ نامزد ملزمان کے خلاف شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور تحقیقات کے دوران مزید افراد کو بھی شامل تفتیش کیا جا سکتا ہے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے واضح کیا ہے کہ سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے یا عوامی مفاد کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی جبکہ مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔
کرپشن الزامات، داتا گنج بخش زون کے افسران، بلڈنگ انسپکٹرز کیخلاف مقدمہ درج



















