تہران،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ثالث متحرک،جنگ بندی کی امید،مذاکرات کاروں نے عبوری معاہدے کی بحالی کیلئے 10روزہ سیز فائر کی تجویز دےدی۔
ایرانی اعلیٰ عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہاعبوری معاہدے کی بحالی کےلئے مذاکرات کاروں نے10 روزہ جنگ بندی کی تجویز دی ،مقصد مفاہمتی یادداشت بحال کرنے کے طریقے تلاش کرنا ہے،جنگ بندی تجویز میں آبنائے ہرمز کو 10 دنوں سے لیکر 2 ہفتوں کیلئے کھولنے پر غور شروع کردیا گیا۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہاحملوں کے باوجود دونوں ممالک میں ثالثوں کے ذریعے سفارتی رابطے ،امریکہ کےساتھ مذاکرات قومی مفادات کی بنیاد پر ہوں گے،ثالثوں کے ذریعے پیغامات موصول ہو رہے ہیں،مختلف تجاویز پہنچائی گئیں،امریکہ کے پاس معاہدے کی خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں، مفاہمتی یادداشت مختصر دستاویز ہے، 14شقیں شامل ،متن مکمل طور پر واضح ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا 14 نکاتی معاہدے میں امریکہ کو ایک نکتے پر بھی کوئی رعایت نہیں دی،معاہدے کی شقوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے واضح ہوتازیادہ تر کامیابیاں ایران کے حق میں ہیں،ایران ملک و قوم کے مفادات کے دفاع کےلئے آخری دم تک ڈٹا رہےگا۔
سپیکر باقر قالیباف نے کہا امریکہ ایک طرف امن کی بات کرتا دوسری جانب خطے میں مسلسل فوجی سازوسامان بھیج رہا ہے،امریکیوں نے ایرانی انٹیلی جنس کی صلاحیت کا اندازہ اپنی محدود ذہنی استعداد کی بنیاد پر لگایا ،ایران امریکی حربوں اور چالوں کو سمجھنے میں مہارت کی سطح تک پہنچ چکا اور اسی بنیاد پر اپنی تیاری بھی مکمل کر لی۔
ایرانی فوج نے خبردار کیا کوئی بھی ملک اب آبنائے ہرمز کو فوجی سازوسامان کی منتقلی کےلئے استعمال نہیں کر سکے گا،بعض ممالک برسوں سے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت و تیل کی برآمدات جاری رکھتے رہے لیکن حالیہ عرصے میں یہی ممالک ایران کے دشمنوں کےساتھ کھڑے ہو گئے ،آبنائے ہرمز سے امریکی اتحادیوں کی آمدورفت مشکل بنائیں گے،ایران اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کےلئے اہم بحری گزرگاہ پر سخت دفاعی اقدامات کرے گا۔
دوسری جانب مریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ایران رویہ بدلے تو سفارت کاری ممکن ہے، امریکہ بات چیت کا دروازہ بند نہیں کرنا چاہتا،ایران نے آبنائے ہرمز کو محفوظ اور کھلا رکھنے کی بجائے 3 بحری جہازوں پر حملے کیے،اقدامات کسی بھی مفاہمتی کوشش کے برعکس ہیں۔
مارکو روبیو نے کہا ایران اب بھی میزائل و ڈرون حملوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے، امریکی اقدامات جوابی ہیں،ایران مختلف ذرائع سے مذاکرات کی خواہش کے اشارے دے رہا ہے، ایران کے اندر معاشی بحران کے باعث پالیسی پر اختلافات بڑھ رہے ہیں، ایک حلقہ مذاکرات کا حامی ،دوسرا سخت موقف پر قائم ہے،مذاکرات کے حامی فیصلہ سازی میں کامیاب ہوتے ہیں تو مثبت پیشرفت ہوگی، موجودہ صورتحال میں امریکہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
امن کی امید روشن،ثالث متحرک،امریکہ،ایران کو10روزہ جنگ بندی کی تجویز دےدی


















