لاہور (نعیم جاوید) فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس افسران کیلئے متعارف کرائے گئے نئے سالانہ پرفارمنس ایویلیوایشن سسٹم اور متعدد ٹیکس اسیسمنٹ کیسوں کو اسلام آباد منتقل کرنے کے فیصلے نے کاروباری حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام کا مقصد ٹیکس افسران کی کارکردگی کو شفاف، قابل پیمائش اور نتائج پر مبنی بنانا ہے جبکہ تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس نے اسیسمنٹ کے اختیار کو اسلام آباد منتقل کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ایف بی آر کے سینئر حکام کے مطابق نئے سالانہ پرفارمنس سسٹم میں افسران کی کارکردگی کا جائزہ صرف ریونیو اہداف کی بنیاد پر نہیں بلکہ ٹیکس دہندگان کی سہولت، بروقت اسیسمنٹ، مقدمات کے معیار، ڈیجیٹل نظام کے استعمال اور شفافیت جیسے اشاریوں پر بھی لیا جائیگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے یکساں معیار کے مطابق فیصلے ہوں گے، انسانی مداخلت میں کمی آئیگی اور احتساب کا نظام مزید مضبوط ہوگا۔ حکام کے مطابق ٹیکس اسیسمنٹ کے بعض معاملات کو مرکزی سطح پر منتقل کرنے کا مقصد ملک بھر میں یکساں تشریح اور پالیسی پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے، نہ کہ کسی شہر کے اختیارات کم کرنا۔ ایسے اقدامات ماضی میں بھی ایف بی آر کی جانب سے مرکزیت اور ڈیجیٹل نگرانی کیلئے کئے جاتے رہے ہیں۔ دوسری جانب لاہور کی تاجر برادری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر لاہور سمیت دیگر شہروں کے ٹیکس کیسز کی اسیسمنٹ اسلام آباد میں ہوگی تو کاروباری افراد کو غیر ضروری سفری اخراجات، تاخیر اور انتظامی مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ مقامی کاروباری ماحول اور زمینی حقائق سے واقف افسران کی موجودگی میں مسائل جلد حل ہو جاتے ہیں، جبکہ مرکزیت سے رابطے کا فقدان پیدا ہوگا ۔کاروباری رہنماوں کے مطابق ایف بی آر کو ڈیجیٹل اصلاحات ضرور کرنی چاہئیں، تاہم ٹیکس دہندگان کی سہولت کو اولین ترجیح دی جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر اسیسمنٹ مرکزی سطح پر کی بھی جائے تو ویڈیو سماعت، آن لائن نمائندگی اور علاقائی سہولت مراکز کو لازمی فعال رکھا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی نئے نظام کی کامیابی کا انحصار کاروباری برادری کے اعتماد پر ہے۔ چیمبر کے مطابق ٹیکس اصلاحات اس وقت ہی موثر ثابت ہوں گی جب ایف بی آر نجی شعبے کو اعتماد میں لے، مشاورت کا عمل جاری رکھے اور ایسے انتظامات کرے جن سے ٹیکس دہندگان کو بار بار اسلام آباد جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ماضی میں بھی لاہور چیمبر ٹیکس دہندگان کی سہولت اور ایف بی آر کے ساتھ مسلسل مشاورت پر زور دیتا رہا ہے۔ اگر نئے پرفارمنس سسٹم کے ذریعے شفافیت، احتساب اور معیاری اسیسمنٹ یقینی بنائی جاتی ہے تو اس سے ٹیکس نظام پر اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے ساتھ کاروباری برادری کے خدشات کا بروقت ازالہ بھی ضروری ہوگا تاکہ اصلاحات کا مقصد ریونیو میں اضافے کے ساتھ ساتھ کاروبار دوست ماحول کی فراہمی بھی حاصل کیا جا سکے۔
ٹیکس افسران کیلئے سالانہ پرفارمنس ایویلیوایشن سسٹم پر کاروباری برادری کا ملا جلا ردعمل


















