تہران:(مشرق نیوز)1979 کے بعد امریکہ ،ایران کے نمائندے پہلی بار آمنے سامنے بیٹھے،2015کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ہونےوالے براہ راست مذاکرات اہم سفارتی پیشرفت ہیں۔
دونوں ممالک کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ،جڑیں 1951 تک جاتی ہیں، ایران میں مصدق حکومت کے دوران تیل وسائل پر قومیانے کی تحریک نے زور پکڑا،قومیانے کے فیصلے نے مغربی طاقتوں کےساتھ شدید اختلافات کو جنم دیا،1953 میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے برطانیہ کےساتھ ملکر ایران کے منتخب وزیراعظم مصدق کی حکومت کے خاتمے میں کردار ادا کیا پھرشاہ رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آئے،واقعے کو ایران میں بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھا گیا اور امریکہ مخالف جذبات کی بنیاد بنا۔
1954 میں کنسورشیم معاہدے کے تحت مغربی کمپنیوں کو ایرانی تیل کے شعبے میں بڑے حصے دئیے گئے، 1957 میں امریکہ کے ایٹمز فار پیس پروگرام کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی ابتدائی بنیاد رکھی گئی،1960 کی دہائی میں اوپیک کے قیام کے ذریعے تیل پیدا کرنےوالے ممالک نے عالمی توانائی منڈی میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی،1970 کی دہائی تک ایران امریکہ کا قریبی اتحادی تصور کیا جاتا تھا تاہم اندرونی سطح پر سیاسی بے چینی بڑھتی رہی جو بالآخر 1979 کے اسلامی انقلاب پر منتج ہوئی، ایران میں اسلامی جمہوریہ قائم ہوا اور سابق شاہ ملک چھوڑ گئے۔
1979 کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی، 1980 میں تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضہ ،52 امریکی اہلکاروں کو 444 دن تک یرغمال بنایا گیااور دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات منقطع ہو گئے،1980 سے 1988 کی ایران عراق جنگ کے دوران امریکہ کی جانب سے عراق کی حمایت نے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کو مزید گہرا کیا،لبنان و خلیج فارس میں مختلف واقعات نے بھی کشیدگی کو بڑھایا،1990 کی دہائی میں امریکہ نے ایران پر اقتصادی و تجارتی پابندیاں سخت کرنا شروع کیں۔
2002 میں ایران کو ”Axis of Evil“میں شامل کیے جانے کے بعد تعلقات مزید خراب ہو گئے،2003 سے 2015 کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہوا، باراک اوباما کی حکومت میں جوہری معاہدہ طے پایا تاہم 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر نے سے کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی،2020 میں ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا،مختلف ادوار میں محدود مذاکرات و قیدیوں کے تبادلے کی کوششیں جاری رہیں لیکن بنیادی اختلافات برقرار رہے،2025 میں دوبارہ مذاکرات کی کوششوں نے رفتار پکڑی، مختلف ممالک کی ثالثی بھی شامل رہی۔
1979 کے بعد امریکی ،ایرانی نمائندوں کی پہلی بار براہ راست بیٹھک


















