تہران (مشرق نیوز) ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران نے نئی تجویز پاکستان کے حوالے کی ہے، اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا کشیدگی کو جاری رکھے۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق تہران میں غیر ملکی سفیروں کو مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ میں ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ ایران ہمیشہ قومی مفاد کی بنیاد پر سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، تاہم اپنے عوام اور سرزمین کے دفاع کیلئے ہر قسم کی جارحیت کا فیصلہ کن جواب دینے کیلئے بھی مکمل طور پر تیار ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران نے حال ہی میں اپنی تجویز پاکستان کے حوالے کی ہے، جس کا مقصد اس جنگ کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے، اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ وہ سفارتکاری کا راستہ اختیار کرے یا کشیدگی کو جاری رکھے۔
کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ ایران دونوں صورتوں کیلئے تیار ہے تاکہ اپنے قومی مفادات اور سلامتی کا تحفظ کر سکے، تاہم امریکہ کے حوالے سے ایران کا عدم اعتماد برقرار رہے گا کیونکہ اس نے سفارت کاری کے دوران دھوکہ دہی کی ہے۔
دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی تجاویز پر مجھے ابتدائی بریفنگ دیدی گئی ہے، مزید بریفنگ بھی لوں گا، اس ڈیل کے اصل ڈرافٹ اور سیاق و سباق کو خود دیکھوں گا، ایران کی ناکہ بندی موثر انداز میں جاری ہے، یہ ناکہ بندی دوستانہ ہے جس میں کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران سے ہماری مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے، کوئی نہیں چاہتا چند سال بعد دوبارہ جنگ کریں، ایران کی عسکری صلاحیت اور لیڈرشپ کو ختم کر دیا ہے، جنگ ابھی ختم کر دیں تو تعمیر نو کیلئے 20 سال لگیں گے، ایران کو دوبارہ عسکری طاقت بننے کیلئے 20 سال چاہئیں۔
سفارتکاری یا کشیدگی؟ گیند اب امریکہ کی کورٹ میں ہے: ایران



















