سزائے موت کی زیر التوا اپیلیں 30 دنوں میں سماعت کےلئے مقرر کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: (بیورورپورٹ) سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں اگلے 30 دنوں کے اندر سماعت کےلئے مقرر کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت عدالتی اصلاحات پر پیش رفت کا دسواں جائزہ اجلاس ہوا، ریفارم ایکشن پلان کے تحت ماہانہ کارکردگی، عدالتی عمل کو جدید بنانے اور ادارہ جاتی کارکردگی بڑھانے کا جائزہ لیا گیا۔

سپریم کورٹ کے اعلامیہ کے مطابق وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے مبصر کے طور پر اجلاس میں شرکت کی، نوید کامران نے کارکردگی کی نگرانی کے کلیدی کارکردگی پر زور دیا،اجلاس کو بریفنگ دی گئی گزشتہ 3 ماہ کے دوران 3600 نئے کیسز دائر ہوئے جبکہ 5338 کیسز نمٹائے گئے، سپریم کورٹ میں زیر التوا کیسز کی کل تعداد کم ہو کر اکتوبر 2024 میں سزائے موت کے زیر التوا کیسز کی تعداد 384 تھی جو اب کم ہو کر صرف 60 رہ گئی ۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں اگلے 30 دنوں کے اندر سماعت کےلئے مقرر کی جائیں گی،سالانہ بیک لاگ ختم کرنے کےلئے 2018 تک دائر ہونے والے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، کیسز کی درجہ بندی اور فائل ٹریکنگ کےلئے بار کوڈنگ سسٹم 30 دنوں میں مکمل کر لیا جائے گا۔

اعلامیے کے مطابق تصدیق شدہ نقول ،نظرثانی درخواستوں کےلئے پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر کے ذریعے ای-پیمنٹ سسٹم فعال، عدالتی فیسوں کی تمام کیٹیگریز کےلئے ای-پیمنٹ کی سہولت ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ،پبلک فیسیلیٹیشن سینٹر نے گزشتہ 3 ماہ میں تقریباً 20802سروس درخواستوں پر سہولت فراہم کی، اے ڈی آر اور ثالثی کے اقدامات کی معیار کی یقین دہانی 30 اگست 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ای-فائلنگ اور ڈیجیٹائزیشن میں تعاون پر بار کی کوششوں کو سراہا۔