مسئلہ ہو تو علیحدگی اختیار کرلو، بیوی کو قتل کرنے کا کیا جواز ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد:(بیورورپورٹ)سپریم کورٹ نے 4 مرلہ زمین کیلئے باپ کو قتل کرنےوالے بیٹے کی صلح کی بنیاد پر رہائی کیس میں ریمارکس دئیے کوئی مسئلہ تو علیحدگی اختیار کرلو، بیوی کو قتل کرنے کا کیا جواز ہے؟۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ایک صوبے میں عدالت کی کاز لسٹ میں 11 کیسز میں سے 10 بیوی کو قتل کرنے کے تھے، 2مردوں کی لڑائی میں بیویوں کو قتل کر دیا گیا۔

مجرم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کیس فساد فی الارض میں نہیں آتا، ملزم کے دماغ کی خرابی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دئیے اگر دماغی خرابی تھی تو ملزم خود کو گولی مار لیتا یا چھت سے چھلانگ لگا لیتا، باپ کو گولی مارنا ذہنی بیماری کیسے ہو سکتی ہے؟،والد کو مارنے کے بعد ملزم کو بریت کا سرٹیفکیٹ کیوں چاہیے ،مستقبل کیا ہے؟ کیا کوئی امتحان دینا یا سیاست میں آنا ہے؟،مجرم کے وکیل نے کہا عدالت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھے میرا موکل 2015 سے جیل میں قید ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دئیے کیا آپ چاہتے ہیں 11سال سے زائد قید کاٹنے پر موکل کو الزام سے بری کردیا جائے، کیس کے فیصلے کا پورے ملک پر اثر پڑے گا،ایک قتل پر ملزم 15 سال سزا کاٹ کر باہر ،10قتل کرنے والا بھی 15 سال بعد رہا ہو جاتاجو ایسے ہے جیسے قتل کا لائسنس دے دیا جائے اگر قانون کا یہی حال رہا تو جنگل کا قانون بن جائے گا ،جس کا دل چاہے قتل کرتا پھرے، دنیا بھر میں دشمنی میں بچوں ،عورتوں کو قتل نہیں کیا جاتا، مگر ہمارے ہاں ہر کسی کو نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔