سیاسی وعسکری قیادت کی بیٹھک، وفاق ،کے پی دہشتگردی کیخلاف ایک پیج پر

پشاور:(بیورورپورٹ)سیاسی وعسکری قیادت کی بیٹھک،وفاق ،کے پی دہشتگردی کیخلاف ایک پیج پر،یکساں موقف یقینی بنانے ،ملاکنڈ میں فوج کی ذمہ داریاں پولیس، سی ٹی ڈی ،صوبائی اداروں کے سپردکرنے کافیصلہ،پی ایس ایل 2026 کے میچز پشاور میں بھی کرانے کا اعلان کر دیا۔

خیبر پختونخوا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کےلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس کور ہیڈکوارٹر پشاور میں ہوا، وفاقی وزیر داخلہ، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، مشیر قومی سلامتی ،کور کمانڈر پشاور ،اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران دہشتگردی واقعات میں شہید ہونےوالے شہریوں ، سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا پشاور میں رواں سال پی ایس ایل کے میچز کرائے جائیں گے،ملاکنڈ ڈویژن میں صوبائی حکومت کے نظم و نسق کو فوری طور پر صوبائی پولیس و دیگر اداروں کی زیر نگرانی ماڈل کے طور پر نافذ کیا جائے گا بعد ازاں کامیاب ماڈل کو خیبر پختونخوا کے متاثرہ اضلاع بالخصوص خیبر، اورکزئی اور کرم میں مرحلہ وار نافذ کیا جائےگا۔

اضلاع میں شروع کیے جانے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کی موثر نگرانی ،کسی بھی قسم کی عسکری کارروائیوں کا جائزہ لینے کےلئے وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں خصوصی ذیلی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس کرے گی۔

خصوصی ذیلی کمیٹی میں منتخب عوامی نمائندگان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی ،صوبائی حکام ،وفاقی اداروں کے نمائندے بھی شامل ہوں گے،کمیٹی اضلاع میں گورننس و ترقی کے شعبوں میں منصوبوں کی نگرانی کے علاوہ مقامی آبادی کی مستقل آمدنی کو یقینی بنانے کےلئے متبادل روزگار کی فراہمی کے مواقع پیدا کرے گی،عارضی طور پر بے گھر افراد کے مسائل کے حل کےلئے موثر انتظامات کیے جائیں گے،وفاق ،خیبر پختونخوا کے درمیان موثر رابطوں کے ذریعے دہشتگردی جیسے مسئلے سے نمٹنے کےلئے اہم پالیسی امور پر مکمل ہم آہنگی ، یکساں موقف کو یقینی بنایا جائے گا، نوجوانوں میں شدت پسندانہ سوچ کی روک تھام ، مثبت سوچ کے فروغ کےلئے پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔

اجلاس میں غیر قانونی سم کارڈز، دھماکہ خیز مواد اور بھتہ خوری جیسی غیر قانونی سرگرمیوں کےخلاف سخت اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی مرحلہ وار پروفائلنگ پر بھی توجہ دی جائے گی۔

بریفنگ دیتے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات شفیع جان، مشیر خزانہ مزمل اسلم اور وزیر قانون آفتاب عالم نے کہامعیشت ، لا اینڈ آرڈر پر اہم فیصلے کیے گئے، متاثرہ علاقوں میں امن و امان بہتر ہوتے ہی سروسز سول انتظامیہ کے حوالے کی جائیں گی، ملاکنڈ میں اختیارات پولیس، سی ٹی ڈی ، صوبائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دئیے جارہے ہیں،دہشتگردی کیخلاف آپریشن والے اضلاع میںحالات بہتر ہونے کے بعد اختیارات پولیس کے حوالے کردئیے جائیں گے۔

مزمل اسلم نے کہااجلاس میں خیبر پختونخوا کے مالی مسائل تفصیل سے زیر بحث آئے، وزیر اعظم کے سامنے اٹھائے گئے صوبے کو درپیش مالی مشکلات ، مالی ایشوز دوبارہ تفصیل سے رکھے گئے،خیبر پختونخوا کو این ایف سی کا واجب الادا حصہ مل جائے تو کئی بڑے مالی مسائل حل ہو سکتے ہیں، کم وفاقی فنڈز کے باوجود خیبر پختونخوا حکومت ضم اضلاع میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے، ضم اضلاع کےلئے موجودہ مالی وسائل ناکافی ہیں، آئندہ مالی مسائل کے حل کےلئے تجاویز دیں۔

مشیر خزانہ نے کہااجلاس میں فیصلہ ہوا صوبے کی سفارشات وفاقی حکومت کے سامنے رکھی جائیں گی، وفاق کےساتھ ملکر خیبر پختونخوا کےلئے زیادہ سے زیادہ مالی ریلیف دلایا جائے گا،آپریشنز کے باعث مارکیٹ بندش سے متاثرہ علاقوں کے روزگار پر بھی بات ہوئی، متاثرہ علاقوں میں تجارت کے متبادل انتظامات و روزگار کے مواقع پر یقین دہانی کرائی گئی، وفاق ،صوبہ ملکر متاثرہ علاقوں کے مالی نقصانات کا ازالہ کریں گے۔

وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا اجلاس میں امن و امان پر اہم و تاریخی فیصلے کیے گئے،امن کی بحالی صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور عسکری قیادت کی بڑی کامیابی ،فیصلہ خیبر پختونخوا پولیس پر اعتماد کے اظہار کا واضح ثبوت ہے، تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سٹیک ہولڈرز ،قبائلی مشران کا اجلاس بلا کر اعتماد میں لیا جائےگا،سول و عسکری قیادت سیاسی و مذہبی سٹیک ہولڈرز اور قبائلی مشران کی سفارشات پر عمل درآمد یقینی بنائےگی، صوبائی ایپکس کمیٹی میں طے پانے والے فیصلوں کو نیشنل ایپکس کمیٹی سے قبل یقینی بنایا جائےگا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں عسکری و سیاسی قیادت نے دہشتگردی کےخلاف جنگ میں ایک سمت پر چلنے پر اتفاق کیا،سہیل آفریدی کی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی و دیگرسٹیک ہولڈرز کےساتھ ملاقات خوشگوار رہی،وزیراعلیٰ کابینہ سمیت 3 گھنٹے تک کور ہیڈ کوارٹرمیں رہے ،کابینہ اراکین کےساتھ لنچ بھی کور ہیڈ کوارٹر میں کیا،لنچ کے دوران وزیر اعلیٰ ، محسن نقوی قریب بیٹھ کر تبادلہ خیال کرتے رہے، وزیر اعلیٰ نے محسن نقوی سمیت دیگرشرکا سے مصافحہ بھی کیا۔