ریلوے میں اخراجات آمدنی سے زائد، تنخواہوں، پنشن کی ادائیگی میں شدید مشکلات

لاہور(قمر عباس نقوی )پاکستان ریلویز کے ایک لاکھ 23ہزار پنشنرز کو سالانہ پنشن 62 ارب روپے جبکہ 58ہزار ملازمین کی تنخواہ 45ارب روپے جبکہ کل اخراجات 102ارب سے تجاوز آمدنی 98ارب روپے تک ، انتظامیہ کی طرف سے تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی میں تاخیر پر ریٹائرڈ ملازمین کو مسائل کا سامنا ،مہنگائی کے تناسب سے ریٹائرڈ ملازین کی پنشن میں اضافہ کا مطالبہ۔پاکستان ریلویز کے پنشنرز کی تعداد ایک لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ادارہ سالانہ تقریباً 62 ارب روپے پنشن کی مد میں ادا کر رہا ہے بڑھتے ہوئے اخراجات نے جہاں ریلوے کے مالی نظام پر شدید دباو ڈال دیا ہےذرائع کے مطابق اس وقت ریلویز پینشنرز کی تعدادحاضر سروس ملازمین کی نسبت زیادہ ہے جیسا کہ ایک لاکھ 23ہزار کے مقابلہ میں موجودہ ملازمین کی تعداد 58ہزار کے قریب ہے سال 2021-22ءمیں پنشن اخراجات 34سے 35ارب سال 2023-24ءمیں 40.5ارب اور سال 2025-26ءمیں 62 ارب سے کے قریب پہنچ چکے ہیں جبکہ سالانہ آمدنی 98ارب تک ہو رہی ہے ریلویز کے مختلف سکیل جس میں 22کے افسر کو ماہانہ 3سے 6لاکھ روپے سکیل 21کو 2سے 4لاکھ سکیل 20کو 1.5لاکھ سے 3لاکھ سکیل 16سے 19کو 60ہزار سے 1.5لاکھ اسی طرح سکیل 1سے 15کے ریٹائرڈ ملازم کو 15ہزار سے 80ہزار روپے ادا کئے جا رہے ہیں جبکہ چھوٹے ملازمین کو ادا کی جانے والی پنشن میں 15سے 35بھی دی جا رہی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سے ہزاروں پنشنرز مہنگائی اور مالی مشکلات کے باعث شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایک پنشنر کو اوسطاً ماہانہ سب سے کم پنشن ملتی ہے، تاہم موجودہ مہنگائی کے دور میں یہ رقم بنیادی ضروریات پوری کرنے کیلئے بھی ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ پنشن اخراجات ادارے کی آمدنی کا بڑا حصہ استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیںذرائع کے مطابق مسئلے کی ایک بڑی وجہ پرانا پنشن نظام ہے جس میں ملازمین کو تاحیات پنشن اور بعد از وفات اہل خانہ کو بھی ادائیگی کی جاتی ہے پریم یونین کے مرکزی صدر شیخ انور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی پنشن میں فوری اضافہ کیا جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی باقی زندگی گزار سکیں مزید ان کا کہنا تھا کہ پنشنرز ادویات، بجلی، گیس اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے مزید کہا کہ متعدد ریٹائرڈ ملازمین نے شکایت سامنے آ رہی ہے کہ بعض اوقات پنشن کے حصول میں تاخیر بھی ہوتی ہے جس سے ان کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں انہوں نے اپنی پوری زندگی ادارے کی خدمت میں گزاری لیکن اب پنشن میں گزارا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ ریلویز حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت پنشنرز کی تعداد کے مقابلہ میں ملازمین کی تعداد کم ہے جس کی وجہ سے محکمہ کے مالی حالات پر اضافی بوجھ پڑا ہوا ہے اس کے باوجود ادائیگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔