لاہور(اپنے نمائندے سے) مون سون کے پیش نظر محکمہ آبپاشی پنجاب کی طرف سے صوبے بھر کے 8 زونز میں سیلاب سے بچاوکے حفاظتی انتظامات کو حتمی شکل دیتے ہوئے بندوں اور پشتوں کی مضبوطی کا کام تیز ی سے جاری ، فیلڈ ٹیمیں ہائی الرٹ ،صوبائی فلڈ کنٹرول روم قائم تمام اضلاع میں پانی کے بہاو¿ کی لائیو مانیٹرنگ کا فیصلہ، گزشتہ سیلابی سیزن کے نقصانات کے پیش نظر، انفراسٹرکچر کی بحالی پر 16 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے تاکہ قیمتی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت پنجاب کی خصوصی ہدایات پر محکمہ آبپاشی نے مون سون کے دوران ممکنہ سیلاب اور اربن فلڈنگ کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے صوبے بھر کے تمام 8 آپریشنل ہائیڈرولوجیکل زونز (ڈویژنز) میں حفاظتی انتظامات، بندوں اور پشتوں کی مضبوطی اور فلڈ پلان پر عملدرآمد مکمل کر کے فیلڈ ٹیموں کو چوبیس گھنٹے ہائی الرٹ رہنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ گزشتہ سیلابی سیزن کے نقصانات کے پیش نظر، انفراسٹرکچر کی بحالی پر 16 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے تاکہ قیمتی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے لاہور اور فیصل آباد زون اور گردونواح کو سیلاب سے محفوظ رکھنے کیلئے دریائے راوی پر 46 کلومیٹر طویل پشتوں کی تعمیر اور دریا کی چینلائزیشن کا کام مکمل کیا گیا ہے جبکہ فیصل آباد اور قادر آباد بیراج ڈویژن کے تحت تمام حفاظتی سٹرکچرز کی صفائی اور فیلڈ مانیٹرنگ ٹیموں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے اسی طرح ملتان اور ڈی جی خان زون: دریائے ستلج کے دائیں کنارے پر نوراجہ بھٹہ فلڈ پروٹیکشن بند سمیت جلال پور پیروالا بند کی ہنگامی تعمیر مکمل کر لی گئی ہے کوہِ سلیمان سے آنے والے شدید پہاڑی نالوں کو کنٹرول کرنے کیلئے قائم کردہ خصوصی پروجیکٹ مینجمنٹ آفس کے تحت فنڈز جاری کر کے تونسہ بیراج کی فلڈ ٹیموں کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ بہاولپور اور ساہیوال زون: دریائے ستلج اور چناب کے سیلابی خطرات کے پیشِ نظر صادقیہ کینال اور رحیم یار خان کے حساس نہری کناروں کی مٹی کی مضبوطی اور ڈی سلٹنگ (بھال صفائی) کا کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا گیا ہے۔ ساہیوال اور خانیوال ڈویژن کے تحت لوئر باری دوآب کینال پر موجود ہائیڈرولک سٹرکچرز سے ملبہ اور رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں سرگودھا اور پوٹھوہار زون: سرگودھا زون میں کوٹ ناجا فلڈ بند اور دیگر حساس اسٹرکچرز کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ خطہ پوٹھوہار اور راولپنڈی میں لئی نالہ سمیت دیگر پہاڑی نالوں میں طغیانی اور اربن فلڈنگ کو روکنے کیلئے رین واٹر چینلز اور منی ڈیمز کے سپل ویز کو صاف کر دیا گیا ہے مالی سال 2025-26 میں محکمہ آبپاشی کی جاری و نئی سکیموں کیلئے مجموعی طور پر 38 ارب روپے مختص کئے گئے جن میں ایریگیشن کی 25 سکیموں کیلئے 5.8 ارب، سیلاب سے متعلقہ کاموں کیلئے 1.9 ارب اور سمال ڈیموں کی تعمیر کیلئے 3.7 ارب روپے شامل تھے۔ رواں سال سپلیمنٹری بجٹ میں محکمہ انہار کو 16 ارب 19 کروڑ روپے کے اضافی فنڈز دیے گئے جبکہ گزشتہ مالی سال سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی پر 25 ارب روپے خرچ ہوئے۔ محکمہ آبپاشی حکام کے مطابق، صوبے کی تمام ڈویژنز میں حساس مقامات کی نشاندہی کر کے ہنگامی اقدامات کئے گئے ہیں۔
محکمہ آبپاشی کا سیلاب سے بچاو کیلئے بندوں، پشتوں کو مضبوط بنانے کا کام تیزی سے جاری


















