صوبے میں متعدد سیف سٹی کیمرے آف لائن ہونیکا انکشاف

لاہور (مرزا ندیم بیگ)پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے زیر انتظام صوبے بھر میں نصب نگرانی کے متعدد کیمرے مختلف وجوہات کی بنا پر آف لائن ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے باعث پولیس کو جرائم کی تفتیش، ملزمان کی شناخت اور فرار کے راستوں کی نگرانی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق کیمروں کی بندش کے باعث کئی مقدمات میں اہم ویڈیو شواہد دستیاب نہ ہونے سے تفتیش کا عمل متاثر ہوا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر فائبر آپٹک نیٹ ورک کی خرابی، بجلی کی مسلسل بندش، تکنیکی نقائص، موسمی اثرات اور آلات کی مدت پوری ہونے کے باعث کیمرے غیر فعال ہوئے، جبکہ بعض مقامات پر مرمت اور پرزہ جات کی عدم دستیابی بھی تاخیر کا سبب بن رہی ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ماضی میں ڈکیتی، راہزنی، قتل، گاڑی و موٹرسائیکل چوری اور دیگر سنگین مقدمات کے ملزمان کی ٹریسنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں، تاہم جہاں کیمرے بند ہوں وہاں وقوعہ کے بعد ملزمان کی نقل و حرکت معلوم کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ تفتیشی افسران کو ایسے مقدمات میں نجی سی سی ٹی وی، موبائل فون ڈیٹا، عینی شاہدین اور دیگر ذرائع پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے تحقیقات میں تاخیر کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں اور حساس مقامات پر نصب کیمروں کی مکمل فعالیت جرائم کی روک تھام اور فوری رسپانس کیلئے ناگزیر ہے۔ اگر کسی اہم مقام پر کیمرہ بند ہو تو نہ صرف مشتبہ افراد کی نگرانی متاثر ہوتی ہے بلکہ گاڑیوں کی نقل و حرکت کا ریکارڈ بھی متاثر ہونے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔دوسری جانب پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ کیمروں کی مسلسل مانیٹرنگ کی جاتی ہے اور جہاں بھی کوئی کیمرہ فنی خرابی کا شکار ہو، اسے ترجیحی بنیادوں پر بحال کرنے کیلئے متعلقہ ٹیمیں متحرک کی جاتی ہیں۔ حکام کے مطابق مینٹی ننس، سافٹ ویئر اپ گریڈیشن، نیٹ ورک کی بہتری اور پرزہ جات کی فراہمی کیلئے سالانہ منصوبہ بندی کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ نگرانی کا نظام بلا تعطل فعال رہے۔پولیس کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی جرائم کے سدباب میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے تمام کیمروں کی مکمل فعالیت نہایت ضروری ہے۔ ان کے مطابق جہاں کہیں بھی تکنیکی خرابی سامنے آتی ہے، اس کی فوری اطلاع سیف سٹیز اتھارٹی کو دی جاتی ہے تاکہ جلد از جلد مسئلہ حل کیا جا سکے۔