اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وزیراعظم شہبازشریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو میثاق جمہوریت اور بات چیت کی دعوت دےدی۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ تین روز پہلے 22 جوان شہید ہوئے، افسر و جوان اپنے بچوں کو یتیم کرجاتے ہیں اور کروڑوں عوام کے بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں۔وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں ان قربانیوں کا احترام کرنا چاہیے، ان کی تکریم کرنی چاہیے، شہدا کے ننھے بچوں کو نہیں پتا کہ ان کے والد اس دنیا سے کوچ کرگئے ہیں۔شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں، میثاق معیشت اورمیثاق جمہوریت کی طرف بڑھیں، اپوزیشن کو آج بھی کہتا ہوں آئیں، بیٹھیں، سیاست اپنی اپنی، ویژن اپنا اپنا، خیالات اپنے اپنے لیکن پاکستان ہے توہم ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ چاروں صوبوں کی یکساں ترقی بطور وزیراعظم میری ذمہ داری ہے، میثاق جمہوریت کے لیے میں نے ایک سے زائد بار کہا ہے، پاکستان کے لیے جو بھی قربانی دی جائے وہ کم ہے ، اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ صوبے کے معاشی وسائل ان کا حق ہیں، کوئی دورائے اوراختلاف نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ریکوڈک کی مثال لے لیں، اس کا معاہدہ پڑھ لیں، ریکوڈک پر بلوچستان کے عوام کے شیئرز روشن مثال ہیں، بلوچستان کے عوام کے شیئرز چھپا ہوا راز نہیں ، سب کے سامنے ہیں۔شہبازشریف نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کا شیئر100 فیصد بڑھایا گیا، یہ احسان نہیں تھا، بلوچستان پاکستان کا خوبصورت صوبہ ہے، غیور اوردلیر عوام ہیں، بلوچستان کے لیے پنجاب اور سندھ نے کنٹریبیوٹ کیا، بلوچستان میں کسانوں کو 75 ارب روپے کی لاگت سے سولر پینلز دیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ گوادر سے چمن تک روڈ بن رہی ہے جوہائی وےکے معیارکےمطابق ہے اور اس شاہراہ کی تعمیر پر300 ارب روپے خرچ کیے جارہے ہیں۔ دریں اثناءوزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایران امریکا تنازع پر ہم ایک امن معاہدے کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہیں، معاہدے کو آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان امن معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کےلئے تیاری کر رہا ہے، اگلے ہفتے تکنیکی سطح کے مذاکرات منعقد ہوں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ مسلسل عزم اور مذاکرات کے دوران تعمیری کردار پر امریکا اور ایران کے شکر گزار ہیں، ہم خطے میں اپنے برادر ممالک کی مسلسل حمایت اور تعاون پر بھی شکر گزار ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں یقین ہے یہ تاریخی امن معاہدہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور باہمی تعاون کیلئے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف سے قومی اسمبلی کے اراکین نے پارلیمنٹ ہاو¿س میں ملاقات کی۔پی ایم ہاو¿س میں اراکین قومی اسمبلی ابرار شاہ، ثمینہ خالد، شاہدہ رحمان، جمال شاہ کاکڑ اور خرم شہزاد، سردار یعقوب خان ناصر، میجر (ر) طاہر اقبال اور میاں خان بگٹی نے وزیراعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔اراکینِ قومی اسمبلی نے متوازن اور عوام دوست بجٹ پیش کرنے پر وزیراعظم کی قیادت کو سراہا ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح عام آدمی کو ریلیف اور معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے،بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا گیا۔ا±نہوں نے کہا کہ امید ہے کہ بجٹ میں کاروباری برادری کے لیے ٹیکس میں رعایتوں اور دیگر سہولیات سے سرمایہ کاری بڑھے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پائیدار معاشی نمو کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے، معاشی استحکام کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رہے گا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی اپوزیشن کو پھر مذاکرات کی دعوت


















