لاہور چیمبر آف کامرس انتخابات، 5 ہزار نئے ووٹرز فیصلہ کن کردار ادا کرنے کیلئے تیار

لاہور (نعیم جاوید) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے آئندہ انتخابات میں پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے ممبران انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتے ہیں۔ انتخابی حلقوں کے مطابق ایسوسی ایٹ کلاس میں مجموعی طور پر تقریباً 19 ہزار ووٹرز موجود ہیں، جن میں تقریباً 5 ہزار نئے ووٹرز پہلی بار حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ کاروباری رہنماوں کا کہنا ہے کہ یہی نئے ووٹرز کئی نشستوں پر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اسی طرح چیمبر کلاس میں بھی گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 1500 نئے ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد اس کی مجموعی ووٹر تعداد تقریباً 5 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ یوں دونوں کیٹیگریز میں نئے ووٹرز کی شمولیت نے انتخابی منظرنامے کو مزید دلچسپ اور غیر یقینی بنا دیا ہے۔ انتخابی مبصرین کے مطابق ماضی میں متعدد نشستوں کا فیصلہ چند درجن یا چند سو ووٹوں سے ہوا، اسلئے اس مرتبہ پہلی بار ووٹ ڈالنے والے ممبران کی ترجیحات غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ مختلف انتخابی گروپوں نے نئے ووٹرز تک رسائی کیلئے خصوصی مہم شروع کر رکھی ہے، جس میں صنعتی علاقوں، تجارتی مراکز اور مختلف شعبہ جاتی تنظیموں کے دورے، کارنر میٹنگز اور منشور کی تشہیر شامل ہیں۔ امیدوار اپنے منشور میں ایف بی آر سے متعلق مسائل کے حل، ٹیکس نظام میں آسانیاں، بجلی و گیس کے نرخوں میں کمی، برآمدات کے فروغ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کیلئے آسان قرضوں کی فراہمی، ڈیجیٹل سہولیات، ویزا سہولت، سرکاری اداروں میں تاجروں کے مسائل کے فوری حل اور کاروباری لاگت کم کرنے جیسے نکات کو نمایاں کر رہے ہیںکاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ لاہور چیمبر کے انتخابات صرف روایتی گروپ بندی کا مقابلہ نہیں ہوں گے بلکہ نئی سوچ، موثر قیادت اور عملی منشور کا امتحان بھی ہوں گے، جہاں تقریباً 5 ہزار نئے ووٹرز انتخابی نتائج کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔