زندہ ہیں پر شرمندہ ہیں ہم

اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کے حصول کے لئے مسلمان مرد اور عورتوں نے اپنی کئی ہزار جانوں کے نذرانے پیش کئے مسلمانوں کا جذبہ قابل دید تھا مسلمان اپنی مذہبی آزادی ملنے پر بے حد خوش تھے دوسری طرف ہندوں اور سکھوں نے جو قیامت ڈھائی عورتوں کی عزتوں کو پامال کیا قتل و غارت گری کی جو کچھ بھی ہوا وہ ناقابل بیان ہے یقینا وہ روحیں دور حاضر کے حالات و واقعات دیکھ کر شاید اپنی دی قربانیوں پر شرمندہ ہوں گی کہ کیوں ہم نے اپنی جانوں کے نذرانے اس ملک کے لئیپیش کئے جہاں آج اس اسلامی جمہوریہ پاکستان میں جو ظلم غریب لاچار اور بے بس عوام پر ڈھایا جا رہا ہے کیسے یہ وڈیرے ملک کی غریب عوام کی عزتیں پامال کر رہے ہیں غریبوں کی گردنوں پر ان وڈیروں کا پاں ہے ان کے زیر سایہ لوگ وحشت سے کھل کر سانس بھی نہیں لے پاتے بلوچستان کے ضلع کیتھران میں پیش آنے والے واقعہ نیتو دل ہی دہلا کر رکھ دیا جس میں قید ایک مظلوم عورت سوشل میڈیا پر اپنی اور اپنے بچوں جان بچانے کا واسطہ اس سوئی ہوئی انتظامیہ اور قوم کو دے رہی ہے کہ اس کی اور اس کے بچوں کی جان بچائی جائے ورنہ انہیں نجی ٹارچر سیل میں قتل کر دیا جائے گا مزید یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس کی اکلوتی جواں سالہ بیٹی بھی اسی وڈیرے کے قبضے میں جسے وہ زیادتی کا نشانہ بناتا ہے یہ موصوف خود بھی بلوچستان اسمبلی کے ممبر اور صوبائی وزیر بھی ہیں اور اپنے علاقے کے سردار بھی یہ وہ سردار ہیں جو لوگوں کی قسمت زندگی اور موت کے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ خود کو زمینی خدا سمجھ بیٹھے ہیں ایسے واقعات صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ دوسرے صوبوں میں خاص طور پر سندھ اور پنجاب میں ایسے واقعات کی بیشتر داستانیں موجود ہیں بدقسمتی سے بہت سارے واقعات میڈیا پر آتے ہی نہیں ہیں ریاست پاکستان اس قدر مجبور ہے اور ان سرداروں کے آگے بے بس ہے کیوں کہ یہ ہی سردار اور وڈیرے پاکستان کی قومی صوبائی اور سینٹ کی نشستوں پر براجمان ہیں نسل در نسل یہ لوگ ملک اور قوم پر حکومت کرتے آرہے ہیں آخر بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا 'ریاست ہوگی ماں کے جیسی' یہ فقرہ صرف کتابوں اور افسانوں تک ہی محدود ہے کبھی ان سرداروں کو یورپ میں سیر وتفریح کرتے ہوئے دیکھیں غلطی سے اگر ان کا پاں بھی اگر کسی گورے کے پاں پر آجائے تو فورا ان سے معافی طلب کرتے ہیں sorry یعنی معذرت پاکستان میں انسانیت تو ہے ہی نہیں جنگل کا قانون اور عوام کیڑے مکوڑے ہیں جس کو پائوں کے نیچے مسل دیں کوئی فرق نہیں پڑتا اتنے بڑے واقعے کے بعد ابھی تک اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے سوموٹو ایکشن نہیں لیا نہ ہی صدر وزیراعظم اور نہ چئرمین سینٹ نے کوئی ایکشن لیا حالانکہ چئرمین سینٹ کا تعلق خود بلوچستان سے ہے لگتا ہے غریب کا خون سرخ رنگ کا نہیں ہے یا پھر مرنے والے غریب تھے کسی منسٹر صدر وزیراعظم جج جرنیل یا پھر کسی بڑے صنعتکار کی فیملی کے ساتھ یہ سب کچھ ہوتا تو اب تک پاکستانی میڈیا تو اپنی جگہ انٹرنیشنل میڈیا میں آگ لگ گئی ہوتی قیمتی خون صرف اور صرف اس ملک کی اشرافیہ اور وی آئی پیز کا ہے آج کے اس جدید دور حاضر میں میری قوم کی بیٹیاں پیٹ کی بھوک مٹانے کے لئے گناہ کی طرف گامزن ہیں کیونکہ مدد تو تم کسی کی کرتے نہیں سعادت حسن منٹو نے کیا خوب کہا ہے کہ بیٹی اور بہن کسی کو نہیں چاہیے مگر بستر گرم کرنے کے لئے ایک عورت ضرور چاہئے ایک دن پہلے میرے ایک دوست ظہور صاحب نے ایک ویڈیو مجھے بھیجی جس میں ایک 13 یا 14 سالہ لڑکی سر پر سکارف لپیٹ پر ایک موٹر سائکل کی دوکان بطور مکینک کام کر رہی تھی اس کے چہرے پر غربت عیاں تھی بہترین شیف کا کورس بھی اس نے کیا ہوا تھا مگر نوکری نہ ملنے کو سبب وہ بائیک مکینک کا کام سر انجام دے رہی تھی یہ یتیم بیٹی اپنی والدہ اور چھوٹے بھائی کا پیٹ پالنے کے لئے اور گھر کا کرایہ ادا کرنے کے لئے محنت کرتی ہے ایک یوٹیوبر اینکر نے جب اس سے کہا جن ہاتھوں میں آپ نے اوزار پکڑ رکھے ہیں ان ہاتھوں میں تو کتابیں ہونی چاہئے تھیں اتنی محنت کرکے کیا تم اپنا اور اہلخانہ کا خرچ پورا کر لیتی ہو یہ بات سن کر اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے اور وہ رونے لگی اور روتے ہوئے کہا کہ جتنے پیسے یہاں سے ملتے ہیں اتنے میں تو بمشکل گھر کا کرایہ ہی ادا نہیں ہوتا میرا دل اس وقت بڑی زور سے دھڑکنے لگا اور میری آنکھوں سے بھی آنسو نکل آئے کہ آخر میری یہ بیٹی کتنے مظبوط اعصاب کی مالک ہے کیا اس نے کبھی یہ سوچا تھا کہ باپ کے مرنے کے بعد اسے زمانے کی ٹھوکریں کھانی پڑیں گی ایک مکینک کی نوکری بھی کرنی پڑے گی معاشرے میں ایسی بہت ساری اور مثالیں بھی موجود ہیں جو بیٹیاں باپ کی موٹر بائیک سڑک پر چلاتی ہوئی نظر آئیں ان کے حوصلوں کو مظبوط کیجئے نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی کریں اور آوازیں کسیں اور اللہ سے ان کی عزت اور زندگی کی حفاظت کی دعائیں اپنے دل سے نکالیں کیونکہ یاد رکھیں برا وقت آتے دیر نہیں لگتی اس بیٹی کی جگہ آپکی بیٹی بھی ہو سکتی ہیں اسلام میں اللہ تعالی نے زکوت کا بہترین نظام متعارف کروایا ہے کہ اپنے نزدیکی ہمسایوں اور رشتے داروں میں زکوت ادا کریں تاکہ وہ اپنی زندگی کی گزر بسر جاری رکھ سکیں مگر یہاں پیسے والے لوگ کنجوس اور بخیل بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں غربت اور بے حیائی پھیل رہی ہیں امیر لوگ غریب ہمسایوں اور رشتہ داروں کو اپنے قریب بھی بھٹکنے نہیں دیتے کہ کہیں یہ پیسے ہی نہ مانگ لیں خداراہ اپنی اصلاح کیجئے اس دنیا میں آپ کا قیام بہت ہی مختصر ہے بالآخر آپ نے اس دنیا کی قلیل اور مختصر ترین زندگی کو چھوڑنا ہے اور اللہ کے حضور پیش ہونا ہے یقینا یہاں پر آپ جب ظلم یا گناہ کرتے ہیں تو آپ کے بچانے کے لئے آپ کے رشتہ دار جج جرنیل سیاستدان یا پھر کوئی بیروکریٹ آپ کی مدد تو کر سکتا ہے مگر مرنے کے بعد جب اللہ تبارک و تعالی حضور جب آپ نے پیش ہونا تو اس وقت کسی کی سفارش روپیہ پیسہ جاہ و جلال عزت شہرت کچھ بھی کام نہیں آئے گی جب فرشتے کسی ظالم انسان کی روح قبض کرتے ہیں تو بڑی اذیت سے جان نکالتے ہیں یہاں تک کہ انسان خو اللہ سے موت طلب کر رہا ہوتا۔ہے مگر تمہارے ظلم کے سبب موت کو بھی ازیت سے نکالا جاتا ہے پھر عذاب قبر اور آخرت میں زلالت ڈور اس دن سے جہاں غریب کے ہاتھ کو مظبوط کیا جائے گا اور وہ تم سے بدلہ لے گا ٹھیک ویسے ہی جیسے دنیا میں تم نے اسے جانوروں جیسا سلوک کیا خدا راہ شاید ابھی بھی وقت ہے سدھر جائو ورنہ قبر تو سب کی ایک جیسی ہی ہے اگر تم ظلم کرنے ملاوٹ کرنے جھوٹ بولنے کم تولنے لوگوں کی جائیدادوں پر ناجائز قبضہ کرنے دھوکہ دینے یتیموں غریبوں بیوائوں کا مال کھانے اور قتل غارت گری سے باز نہ آئے تو ذرا صبر کرو آخرت میں تو سزا ملے گی ہی پر دنیا۔میں بھی اللہ زمانے کو تمہارا حال ضرور دکھائے گا یاد رکھیں ظلم کا بدلہ ظلم ہے نیکی کا بدلہ نیکی ہے ہر سال حج اور عمرہ کرنے سے بہتر ہے کہ اپنے علاقے کی وہ غریب بیٹیاں جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں بیٹھی ہیں ان کی اچھے طریقے سے شادیاں کروائیں ان کو گھروں سے رخصت کریں اللہ آپ کے لئے ضرور آسانیاں پیدا کرے گا ایک دوسرے کو قرض حسنہ دیں اپنا گھر جنت میں خریدئے نہ کہ جہنم میں کیونکہ دنیا میں بھی آپ اپنا گھر کسی اچھی سوسائٹی میں خریدنا پسند کرتے ہیں تو آخرت میں کیوں نہیں دنیا میں آپکی شخصیت ہی آپ کا کردار جو مرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں اور تذکروں میں زندہ رہتا ہے غریب کی آہ اور بدعا سے بچیں اپنی آخرت سیدھی کریں اللہ دنیا خود ہی سیدھی اور آسانیاں پیدا کر دے گا۔