تعریف سے زیادہ تنقید ہوتی ، پرواہ نہیں ،ہر ایک کو ذمہ داریوں کا پورا بوجھ اٹھانا ہوگا،مریم نواز


لاہور:(اپنے رپورٹر سے)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازنے کہاہے تعریف سے زیادہ تنقید ہوتی لیکن پرواہ نہیں ، والد میرے لئے مشعل راہ ،تجربات کا سمندر ،گھر میں ہی بہت سی قابل تقلید مثالیں موجود ہیںنہ چاہتے ہوئے بھی گھر میں ٹریننگ ہوجاتی ہے۔

کامن ٹرینی پروگرام حکومت سندھ کے وفد کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نوازنے کہامیرے اورآپ پر قوم نے بہت انوسٹ کیا، ملک نے عزت، پہچان ،بنیاد دی،فخر سے کہتی ہوں میڈ ان پاکستان،ایجوکیٹڈ ان پاکستان اورلیو(Live)ان پاکستان ہوں، وزرات اعلیٰ آسان نہیں مشکل کام ہے،ہر روز نئے چیلنجز کاسامنا کرنا پڑتا،وزرات اعلیٰ یہ نہیں آپ تیار ہو کر گاڑی میں آفس آئیں،چائے پئیں اورشا م کو گھر چلے جائیں،وزیراعلیٰ کے قلم سے ایک فیصلہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاسکتا ہے،بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں ضائع کرنے کیلئے وقت نہیں ہوتا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاوقت کی پابندی کیلئے گھڑی سامنے رکھ کر بیٹھتی ہوں،فیصلہ کیا ہونا چاہیے اگر پتہ نہیں توعہدے کا کوئی حق نہیں ،اپنی چھت،اپنا گھر کیلئے لڑ جھگڑ کر9سا ل کی قسط کرائی،لوگ حکومت پر اعتماد کریں،ریاست کو خود جا کر دستک دینی چاہیے،سی سی ڈی کی وجہ سے 70فیصد کرائم نیچے آگیا،13،14کروڑ عوام کی ذمہ داری ،ہرمعاملہ ترجیح ہے،ہر ایک کو ذمہ داریوں کا پورا بوجھ اٹھانا ہوگا،فیصلہ کرتے ہوئے رسک لینا پڑتا ہے،ہمت کا مظاہرہ نہ کرو توکام نہیں چلتا، مواقع بار بار نہیں ملتے،محنت کریں گے تو ہر کام ممکن ہے۔

مریم نواز نے کہا کبھی کوئی عہدہ نہیں تھا،کونسلر تک نہیں بنی،کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنی کامیا ب ہوجاوں گی،عوام کے مفاد کا معاملہ ہو تو آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی ہوں، مجھے گو رنمنٹ سے زیادہ مشکل پارٹی میں پیش آئی یہاں پہنچنے کیلئے بہت محنت کرنا پڑی،ناک کی سیدھ میں چلتی ہوں،خلاف بات کرنے والوں کی پرواہ نہیں،پروفیشنل ازم میں ذاتیات کو شامل نہیں کرنا چاہیے،کوریڈور آف پاور میں جذبات کا عملدر آمد نہیں ہوتا، جرات کےساتھ عوام کی خدمت کیلئے فیصلہ کرنا چاہیے،اپنی چھت،اپناگھر کو تیز ترین ،پائیدار لو کاسٹ ہاوسنگ سکیم ہونے پر مسقط میں یو این ہیبی ٹیٹ سکول آف آنر ایوارڈ ملا،18ماہ میں 2 لاکھ سے زائد ہاوسنگ لون دئیے،پراجیکٹ کے پیچھے فیصلے کی بھر پورطاقت ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاپنجاب میں 100سے زیادہ سکیمیں چل رہی ہیں لیکن کسی سکیم میں کوئی نادہندہ نہیں،لوگ حکومت پر اعتماد کریں ،نیا سوشل کنٹریکٹ ہے، پنجاب میں ڈی پی او،ڈی سی او سفارش پر نہیں لگتے،آئی جی کہتے ہیں میرے وہم و گمان میں نہیں مجھے آئی جی بنایا جائے گا،سیاسی پریشر ہوتا ہے لیکن سفارش نہیں سنتی، سفارش پرکوئی بندہ نہیں آنے دیا،2سال بعد الیکشن میں جائیں گے تو نتائج کاہی پتہ چلے گا،ضرورت مند کو ریاست کا دروازہ نہ کھٹکھٹانا پڑے،ریاست کو خود جا کر دستک دینی چاہیے،رمضان میں مخیر حضرات کے تعاون سے لاکھوں افراد کےلئے دسترخوان لگائے،ضرورت مند تک خود نہ پہنچنا ریاست کی ناکامی ہے۔

دریں اثناغربت کے خاتمے کے عالمی دن پراپنے خصوصی پیغام میں مریم نواز نے کہاپنجاب میں غربت کے خاتمے کیلئے مستقل و ٹھوس اقدامات کررہے ہیں،نعروں نہیں ،ٹھوس معاشی پالیسیوں ،عوامی فلاحی منصوبوں کے ذریعے غریب طبقات کو بااختیار بنایاجارہا ہے،اپنی چھت،اپنا گھر،پرواز کارڈ اور لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالر شپ سکیم سے غریب طبقات کی معاونت کررہے ہیں،دیہی علاقوں میں خواتین کو ہنرمندی پروگراموں ، بلا سود قرضوں کے ذریعے معاشی طور پر خودمختار بنایا جارہا ہے۔