لاہور (مرزا ندیم بیگ) پنجاب پولیس کے آئی جی شکایت مرکز 1787 پر رواں سال 98 ہزار سے زائد شکایات نمٹانے کے اعلان کے بعد شکایات کے ازالے اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی تفصیلات اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں مقدمات کے اندراج میں تاخیر، تفتیش میں غفلت اور محکمانہ و دیگر معاملات سے متعلق شکایات کی تعداد تو بتائی گئی ہے تاہم پولیس اہلکاروں کے ناروا رویے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت طلبی کے الزامات پر کتنے اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور کتنے ملازمین کو محکمانہ سزائیں دی گئیں۔ اسکی الگ الگ تفصیلات دستیاب نہیں ہو سکیں۔پنجاب پولیس کے 7 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اعلان کے مطابق آئی جی شکایت مرکز 1787 کے ذریعے رواں سال 98 ہزار سے زائد شکایات نمٹائی گئیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق ان میں مقدمات درج نہ ہونے سے متعلق 47 ہزار 152، تفتیش میں تاخیر سے متعلق 22 ہزار 339، محکمانہ و دیگر امور سے متعلق 21 ہزار 851 جبکہ پولیس سروسز سے متعلق 7 ہزار 163 شکایات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملزمان کی گرفتاری، مالِ مسروقہ کی برآمدگی، ناقص تفتیش، جھوٹے مقدمات کی منسوخی اور تفتیش کی تبدیلی سے متعلق شکایات پر بھی کارروائی کی گئی۔ (سرکاری اعلامیہ، پنجاب پولیس)تاہم ان اعدادوشمار کی روشنی میں یہ سوالات اپنی جگہ موجود ہیں کہ محکمانہ و دیگر امور کے زمرے میں پولیس اہلکاروں کے خلاف بدسلوکی، شہریوں کو ہراساں کرنے، اختیارات کے ناجائز استعمال اور رشوت طلب کرنے کی کتنی شکایات شامل تھیں؟ ان میں سے کتنی شکایات ابتدائی جانچ کے بعد درست ثابت ہوئیں اور کتنے اہلکاروں کے خلاف باقاعدہ انکوائری شروع کی گئی؟ کتنے ملازمین کو معطل، برطرف یا دیگر محکمانہ سزائیں دی گئیں اور کتنے اہلکاروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہوئے؟ذرائع سے حاصل کیے جانے والے ریکارڈ میں یہ تفصیلات بھی اہم ہیں کہ کتنی شکایات فریقین کے درمیان صلح یا باہمی تصفیے کے بعد بند کی گئیں، کتنی شکایات کو محض متعلقہ افسر کی رپورٹ کی بنیاد پر نمٹایا گیا اور کتنے معاملات میں شکایت کنندگان سے براہِ راست رابطہ کرکے مسئلے کے حل ہونے کی تصدیق کی گئی۔ اسی طرح شکایت کنندگان کی عدم اطمینان کی صورت میں دوبارہ انکوائری یا اعلیٰ افسر سے تصدیق کرانے کے طریقہ کار اور اس کے نتائج کی تفصیلات بھی طلب کی جا رہی ہیں۔پنجاب پولیس کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق شکایت مرکز 1787 پر مقدمہ درج نہ کرنے، ناقص تفتیش، غیر قانونی حراست، بے گناہ افراد کی گرفتاری، جھوٹی ایف آئی آر، فرائض میں غفلت اور ناجائز مالی مطالبات سے متعلق شکایات وصول کی جاتی ہیں۔ شکایات متعلقہ سینئر افسران کو بھجوائی جاتی ہیں جبکہ شکایت کنندہ سے رابطے اور موصولہ رپورٹ کی تصدیق کا طریقہ کار بھی موجود ہے۔ اگر جواب غیر واضح ہو یا شہری عدم اطمینان ظاہر کرے تو معاملہ مزید تصدیق کیلئے سینئر افسر کو بھیجا جا سکتا ہے۔آئی جی پنجاب عبد الکریم کے مطابق شکایت مرکز پر موصول ہونے والی درخواستوں کو مقررہ وقت اور ضابطہ کار کے مطابق نمٹایا جا رہا ہے جبکہ ضلعی پولیس افسران کو شکایات کی ذاتی نگرانی کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ شہریوں کو بروقت ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
1787 پر 98 ہزار سے زائد شکایات کی تفصیلات نہ ملی سکی



















