اسلام آباد:(بیورورپورٹ)انسانی حقوق کے نام پر پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے بھارت ،کالعدم ایکشن کمیٹی کا مذموم گٹھ جوڑ پھر بے نقاب ہو گیا۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق اپریل 2026میں بھارتی ہائی کمیشن لندن نے منظم سازشی منصوبے کےلئے کالعدم ایکشن کمیٹی سے رابطہ کیا، جون 2026میں لندن میں بھارتی ہائی کمیشن کے عہدیدار پرومود کھیم چندانی اور بھارتی میڈیا ٹائمز نا کے زکا جیکب کی ملاقات ہوئی،ملاقات میں آزاد جموں و کشمیر میں بدامنی اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بیانیے کی تشہیر کےلئے نئی تنظیم کے ذریعے آپریشن شروع کرنے پر غور کیا گیا۔
24جون 2026کو اظہر احمد، یاسر شفاعت اور ڈاکٹر اشتیاق خالق جیسے فسادی جھتے سے منسلک شرپسندوں کو بھارتی ہائی کمیشن نے آزاد کشمیر میں بدامنی پھیلانے کیلئے تیار کیا،بھارتی نشریاتی ادارہ ٹائمز نا سے منسلک زکا جیکب کو وسیع میڈیا کوریج کے ذریعے پاکستان مخالف بیانیے کو ہوا دینے کی ذمہ داری سونپی گئی،جون 2026کے دوران سازشی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بھارتی ہائی کمیشن کا تینوں شرپسندوں کو 17واٹس ایپ کالز کیے جانے کا انکشاف ہوا، 30جولائی 2026کو برطانیہ میں نام نہاد جموں و کشمیر تنظیم ہیومن رائٹس آبزرویٹری (جے کے ایچ آر او)کی رجسٹریشن کی گئی،جون 2026کو کالعدم ایکشن کمیٹی نے راولاکوٹ ،آزاد کشمیر کی جھوٹ پر مبنی حالات دکھا کر عالمی برادری سے فوری اقدام کے مطالبہ کی متعدد پوسٹس جاری کیں۔
پاکستان مخالف سرگرمیاں ،بھارت ،کالعدم ایکشن کمیٹی کا گٹھ جوڑ بے نقاب



















