سانحہ اسلام آباد،داعش کے افغانی ماسٹر مائنڈ سمیت متعدد گرفتار، دہشت گردوں کو کٹہرے میں لائیں گے: وزیراعظم

اسلام آباد، فیصل آباد، لاہور (بیورورپورٹ+ وقائع نگار) اسلام آباد کے علاقے ترلائی کلاں میں خودکش حملہ کرنےوالے داعش کے افغانی ماسٹر مائنڈ سمیت 4 سہولت کار گرفتار کر لیے گئے، سکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنےوالے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مارے، اس آپریشن میں ایک اہلکار شہید ہو گیا، آپریشنز ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلی جنس کے نتیجے میں کیے گئے، خود کشحملے کا داعش افغانی ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کر لیا گیا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملے کی منصوبہ بندی، تربیت اور ذہن سازی افغانستان میں داعش نے کی، افغان طالبان کی سرپرستی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں خطے اور عالمی امن کےلئے بڑا خطرہ ہیں،آپریشن کے دوران وطن کا ایک بیٹا شہید اور 3 زخمی ہوگئے، دہشت گردوں کےخلاف مزید انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں،دریں اثناقانون نافذ کرنےوالے اداروں کی جانب سے شواہد جمع کرنے کےلئے نیشنل فارنزک ایجنسی اور نادرا کی مدد حاصل کی گئی،نادرا ڈیٹا کی مدد سے حملہ آور کی شناخت مکمل کر لی گئی، یاسر کی عمر 26 سال تھی،حملہ آور نے افغانستان سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی اور وہ کئی بار افغانستان کا سفر کر چکا ، کچھ عرصہ قبل ہی افغانستان سے واپس آیا تھا،تحقیقات کے دوران پشاور سے یاسر سے تعلق رکھنے والے 4افراد کو حراست میں لیا گیا جنہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے،پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے حملے سے قبل فائرنگ کی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ مسجد وامام بارگاہ کے ہال میں داخل ہو کر مزید 6 گولیاں چلائیں جن کے خول جائے وقوعہ سے مل گئے، فائرنگ کے بعد حملہ آور نے مسجد کے ہال میں جا کر خودکش دھماکہ کیا ، دھماکے میں 4 کلو گرام تک بارودی مواد استعمال کیا گیا جس میں بال بیرنگ کی مقدار زیادہ تھی،مزید بر آں پمز میں اسلام آباد خود کش دھماکے کا زیرعلاج ایک اور زخمی دم توڑ گیا، شہداءکی تعداد 33 ہو گئی،ہسپتال ذرائع کے مطابق دھماکے کے 33 شہداءکی میتیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں،پمز میں 20 زخمیوں کی حالت تشویشناک، 9 آئی سی یو میں زیر علاج ہیں، خودکش دھماکے کے شہدا کی نمازجنازہ امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ اور امام بارگاہ جامع صادق میں ادا کردی گئی،امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں 11شہدا جبکہ امام بارگاہ جامع صادق میں3 شہداءکی نماز جنازہ ادا کی گئی ہے، نماز جنازہ کے موقع پر وفاقی وزرائ، پولیس حکام، تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، سیاسی رہنماو¿ں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں خودکش حملہ کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کےلئے موصول ہونے والے پیغامات پر دوست ممالک اور عالمی رہنماو¿ں کا شکریہ ادا کیا ہے،وزیراعظم نے ایکس پر بیان میں کہا گھناو¿نے جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا،مذموم عزائم کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، اسلام آباد میں دل دہلا دینے والے خودکش حملے کے بعد دنیا بھر سے ہمدردی اور یکجہتی کے جو پیغامات موصول ہوئے ہیں، ہم ان کے لیے شکر گزار ہیں،پاکستان کی دہشت گردی کے خاتمے کےلئے کوششوں میں ہمارے دوستوں اور شراکت داروں کی حمایت اور تعاون ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے، نازک گھڑی میں بہادر پاکستانی قوم متحد رہے، دہشت گردی کو شکست دینے کے عزم پر پہلے کی طرح مضبوطی سے قائم رہے،وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنیوالے دین اور وطن دونوں کے دشمن ہیں،وزیر دفاع نے ایکس پر بیان میں لکھا حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے، بھارت اور طالبان گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں،سکیورٹی گارڈز نے دہشت گرد کو چیلنج کیا جس پر اس نے فائرنگ کی اور خودکش حملہ کردیا، ریاست ظلم کا جواب پوری قوت سے دے گی،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا بھارت پس پردہ رہ کر پاکستان میں دہشتگردی کے نیٹ ورک آپریٹ کر رہا ہے، داعش، طالبان کی تمام فنڈنگ اور ٹارگٹ بھارت دے رہا ہے، کلیئریٹی سے بتا رہا ہوں کالعدم تنظیموں کو ساری فنڈنگ اورٹارگٹ بھارت دے رہا ہے، بھارت نے فرنٹ پر دہشت گرد تنظیمیوں کو رکھا ہوا ہے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا نے گرفتاری میں اہم کردارادا کیا، ماسٹر مائنڈ کا تعلق داعش سے ، حراست میں ہے، دھماکے کی ساری منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی، بھارت جنگ نہ جیتنے پر اب یہ طریقہ آزما رہا ہے، بھارت چاہے بجٹ 10 گنا بڑھا لے ہم شکست دیں گے، بلوچستان میں جتنے حملے ہوئے کوئی بچ کر نہیں گیا، کمیونٹی انٹیلی جنس کو بہتر بنانا ہو گا، انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کارروائی سے بہت سے دہشت گرد منصوبوں کو ناکام بنایا گیا، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا جمعے کی نماز کے دوران مسلمانوں پر حملہ ہونا انتہائی افسوس ناک ہے، دہشتگردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، مقصد صرف بدامنی پھیلانا ہے،لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا دہشتگردوں کا جڑ سے خاتمہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں کافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے اور ملزمان کو ہر صورت کیفر کردار تک پہنچایا جائےگا، دہشتگردوں کا وہاں تک تعاقب کیا جائے گا جہاں تک ان کی سوچ بھی نہیں جاتی، حکومت نے پیغامِ امن کمیٹی قائم کی ہے جس میں ہر مذہبی مکتبہ فکر کے نمائندے شامل ہیں، دہشتگرد اب کمزور ہو چکے ہیں، اسی لیے مضافاتی علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں، ترلائی حملہ آور کے بارے میں معلوم ہو چکا وہ افغانستان جا چکا تھا،مشیر وزیر اعظم رانا ثناءنے کہا دہشت گرد ہمیں ترقی سے روکنا چاہتے ہیں ،ہر صورت واصل جہنم کیا جائےگا، ہماری افواج اور سکیورٹی فورسز دہشتگرد عناصر کا مکمل خاتمے کےلئے پر عزم ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کےلئے قوم کا متحد ہونا ناگزیر ہے ،حکومت عوام کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی، میڈیکل تعلیم کے فروغ اور صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کےلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے،اسلام آباد دھماکے پر عالمی رہنماﺅں نے صدر آصف زرداری،وزیر اعظم شہباز شریف کو تعزیتی خطوط اور پیغامات کے ذریعے دہشتگردی کی شدید مذمت کی ہے۔