پنجاب ، لائیوسٹاک کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے تاریخی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز

لاہور (میاں ذیشان) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں صوبہ پنجاب میں لائیو سٹاک کے شعبے کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے اربوں روپے مالیت کے تاریخی ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کر دیا گیا ہے جن کا مقصد دیہی معیشت کو مستحکم بنانا، کسانوں کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کرنا اور برآمدی صلاحیت کو فروغ دینا ہے۔ ان اقدامات میں سب سے نمایاں سی ایم پنجاب لائیو سٹاک کارڈ ہے جس کیلئے سال 2024 تا 2026 کے دوران 3 ارب 18 کروڑ 70 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو جانوروں کے چارے کی خریداری کیلئے بلاسود قرضے فراہم کیے جا سکیں جبکہ جنوبی پنجاب کی بیوہ اور مطلقہ خواتین میں لائیو اسٹاک اثاثوں کی منتقلی کے منصوبے پر 2 ارب روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جس کے تحت مجموعی طور پر 9255 جانور تقسیم کئے جا رہے ہیں، جن میں پہلے مرحلے میں 4870 اور دوسرے مرحلے میں 4385 جانور شامل ہیں، اس کے ساتھ ہر مستفید خاتون کو بینک آف پنجاب کے ذریعے ایک مرتبہ پانچ ہزار روپے کی اضافی مالی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح ویٹرنری گریجویٹس اور پیرا ویٹس کیلئے 61 کروڑ روپے کی لاگت سے 12 ماہ کا انٹرن شپ پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں پانچ سو نئے ویٹرنری ڈاکٹروں کو ماہانہ 60500 پیرا ویٹس کو 40 ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا تاکہ ہسپتالوں، تجربہ گاہوں اور موبائل ڈسپنسریوں میں خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔ اسی طرح 74 کروڑ روپے کی لاگت سے ضلعی سطح پر جدید ایکس رے اور جراحی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں 10 ایکسرے مشینیں، موبائل ریڈیولوجیکل گاڑیاں، کتوں کی سرجری کے بعد نگہداشت اور گھوڑوں کیلئے خصوصی کٹس شامل ہیں، جبکہ 75 کروڑ روپے سے لیب نیٹ ورکنگ، 17 موبائل ویٹرنری لیبارٹریاں اور ایپی ڈیمولوجیکل یونٹ کے قیام کے ذریعے بیماریوں کی بروقت تشخیص کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت کی جانب سے 61 کروڑ 90 لاکھ روپے سے منہ کھر بیماری کے کنٹرول کیلئے 15 بیماری سے پاک یونٹ قائم کیے ہیں جن میں سے 8 کو نوٹیفائی کیا جا چکا ہے اور بفر زونز میں مفت ویکسی نیشن اور ٹیگنگ جاری ہے تاکہ عالمی ادارہ ورلڈ آرگنائزیشن فار اینیمل ہیلتھ کے معیار کے مطابق برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے علاوہ پنجاب کے مختلف اضلاع نارووال، بھکر، اوکاڑہ، گجرات، قصور، لودھراں، فیصل آباد اور حافظ آباد میں 19 کروڑ 60 لاکھ روپےسے 20 موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں، 16 کروڑ پچاس لاکھ روپے سے نارووال، بھکر، اوکاڑہ، گجرات، قصور، لودھراں، فیصل آباد اور حافظ آباد میں ڈسپنسریوں کی بحالی، 12 کروڑ 40 لاکھ روپے سے تحصیل سطح پر 13 کروڑ 90 لاکھ روپے میں الٹراساﺅنڈ مشینوں کی فراہمی شامل ہے، جبکہ دیگر منصوبوں میں ویٹرنری ریسرچ انسٹیٹیوٹ لاہور کی اپ گریڈیشن 39 کروڑ روپے ، جبکہ 54 کروڑ 10 لاکھ روپے غیر معروف مویشیوں میں غیر ملکی سیمن کے ذریعے جینیاتی بہتری، سی طرح 20 کروڑ 60 لاکھ کالج آف ویٹرنری اینڈ اینیمل سائنسز جھنگ میں تعلیمی سہولیات کی بہتری اور 23 کروڑ 70 لاکھ روپے کرانی والہ و قادر آباد میں سیمن پروڈکشن یونٹس کی مضبوطی کیلئے جاری کئے گئے ہیں۔ جو مجموعی طور پر اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ پنجاب حکومت لائیو سٹاک کے شعبے کو جدید، منافع بخش اور پائیدار بنانے کیلئے عملی اور موثر اقدامات کر رہی ہے۔