لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں ایسوسی ایشن آف ساوتھ ایشین نیشنز (آسیان) ٹریڈ اینڈ ٹورازم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کی جبکہ انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسنینتو سوکوتجو، تھائی لینڈ کے سفیر رونگ ودھی ویرا بتر، ہائی کمشنر ملائیشیا داتو محمد اظہر مزلان، ہائی کمشنر برونائی دارالسلام کرنل (ر) پنگیرن حاجی کمال باشاہ، فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل فرنینڈز، میانمار کے سفیر ونّا ہان، سینئر نائب صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ، نائب صدر خرم لودھی، ایگزیکٹو کمیٹی ممبران، کنوینر راجہ حسن اختر، پرتگال کے اعزازی قونصل جنرل افتخار فیروز اور دیگر شرکاءبھی موجود تھے۔ صدر لاہور چیمبر نے اس موقع پر کہا کہ آسیان ایک انتہائی اہم علاقائی تنظیم ہے جس کی مجموعی جی ڈی پی چار ٹریلین ڈالر کے قریب ہے۔ اس میں شامل ممالک کی برآمدات 1.6 ٹریلین ڈالر سے زائد ہیں، لیکن پاکستان کی اس ریجن میں برآمدات صرف 1.37 بلین ڈالر ہیں جو انتہائی کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کی سب سے بڑی وجہ آسیان ممالک میں پیچیدہ کوالٹی سرٹیفیکیشن، سینیٹری اقدامات اور امپورٹ پرمٹس جیسی رکاوٹیں ہیں جنہیں کم یا ختم کیا جانا چاہیے۔ اس سے حلال گوشت، زرعی اور فارماسیوٹیکل برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کئی آسیان ممالک میں ہائی امپورٹ ٹیرف کے باعث ٹیکسٹائل اور لیدر برآمدات کو مشکلات کا سامنا ہے، جس سے پاکستانی تاجروں کی وہاں رسائی محدود ہو جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آسیان ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹس کیے جائیں، ڈائریکٹ فلائٹس اور شپنگ روابط بہتر بنائے جائیں، ویزا پالیسی کو آسان کیا جائے اور سیاحت کے فروغ کیلئے مشترکہ مہمات اور ٹریول پیکجز متعارف کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آئی ٹی کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے اور آسیان ممالک میں ڈیجیٹل سروسز کی برآمدات بڑھانے کیلئے اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انڈونیشیا کے سفیر چندرا وارسنینتو سوکوتجو نے کہا کہ آسیان 680 ملین آبادی کے ساتھ ایک ابھرتی ہوئی کنزیومر مارکیٹ ہے جہاں قوتِ خرید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم ملک ہے جو آسیان سپلائی چین میں مو¿ثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انڈونیشیا 1.4 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ساتھ جی-20 کا حصہ ہے اور گزشتہ کئی برسوں سے اس کی معاشی شرح نمو تقریباً 5 فیصد ہے، جبکہ موجودہ قیادت فوڈ سیکیورٹی، انرجی سیکیورٹی، قابلِ تجدید توانائی اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پر توجہ دے رہی ہے۔ ہائی کمشنر ملائیشیا داتو محمد اظہر مزلان نے کہا کہ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث خطے سمیت آسیان ممالک کے کاروبار بھی متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور ملائیشیا پاکستان کی خارجہ اور اقتصادی پالیسیوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملائیشیا نے موجودہ سال کو ''وزٹ ملائیشیا ایئر'' قرار دیا ہے اور پاکستانیوں کو وہاں آنے کی دعوت دی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ صورتحال کے باعث ملائیشیا میں فیول پرائسز میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے صدر لاہور چیمبر کو وفد کے ہمراہ ملائیشیا کے دورے کی دعوت بھی دی۔ ہائی کمشنر برونائی دارالسلام کرنل (ر) پنگیرن حاجی کمال باشاہ نے کہا کہ برونائی ایک سٹرٹیجک ملک ہے اور آسیان کیلئے ایک مو¿ثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برونائی اپنی معیشت میں تنوع، روزگار کے مواقع اور میکرو اکنامک استحکام پر توجہ دے رہا ہے اور پیٹروکیمیکل، سیاحت، فوڈ انڈسٹری، مینوفیکچرنگ اور آئی ٹی میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ میانمار کے سفیر ونا ہان نے کہا کہ میانمار اور پاکستان کے تاریخی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک تجارت میں حائل رکاوٹیں دور کر کے کاروباری مواقع بڑھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میانمار ایک زرعی ملک ہے اور جیم اسٹونز اس کی اہم برآمدات میں شامل ہیں۔ تھائی لینڈ کے سفیر رونگ و±دھی ویرا ب±تر نے کہا کہ پاکستان اور تھائی لینڈ کے درمیان جلد پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ متوقع ہے، جس کے بعد ٹیرف صفر سے پانچ فیصد تک محدود ہو سکتا ہے، جس سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اکنامک سسٹمز کو سادہ اور کم رکاوٹوں والا بنانا ہوگا اور پیپر لیس کسٹمز سسٹم کا نفاذ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمانوئل فرنینڈز نے کہا کہ فلپائن دنیا کو بہترین ورک فورس فراہم کرتا ہے اور الیکٹرانکس، مشینری اور سٹیل کا بڑا برآمد کنندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلپائن اس وقت فارماسیوٹیکل، ایگریکلچر، فوڈ سیکیورٹی، انڈسٹری، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل اکانومی پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس میں آسیان ٹریڈ اینڈ ٹورازم کانفرنس، علاقائی تعاون کے فروغ پر زور


















