اسلام آباد (بیورو رپورٹ) وفاقی وزیر صحت سید مصطفی کمال نے چین کے تجربے کو احتیاطی صحت کے نظام کی طرف منتقلی کےلئے ایک ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو صرف علاج پر مبنی نظام سے آگے بڑھنا ہوگا، یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک عالمی تبدیلی آ رہی ہے، آج دنیا طب کو غذائیت، خوراک اور پودوں پر مبنی علاج کے ساتھ جوڑنے کی طرف جا رہی ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں چینی طب اور ہماری یونانی و جڑی بوٹیوں پر مبنی ٹریڈیشنل میڈیسن اہم کردار ادا کرتے ہیں۔گوادرپرو کے مطابق پاک چین انٹرنیشنل کانفرنس فار فوڈ-میڈیسن ہومولوجی، نیوٹریشن اینڈ ہیلتھ کا انعقاد شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اسلام آباد میں کیا گیا جس میں دونوں ممالک کے سائنسدانوں، پالیسی سازوں، ریگولیٹری ماہرین اور صنعت کے نمائندوں نے شرکت کی۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ چند ماہ قبل میں نے چین کا دورہ کیا اور وہاں ٹریڈیشنل میڈیسن کے ماہرین سے ملاقات کی،ہم نے تفصیلی گفتگو کی کہ انہوں نے اس شعبے کو کس طرح ترقی دی اور ریگولیٹ کیا ہے۔گوادرپرو کے مطابق انہوں نے کہاکہ پاکستان اب اس تجربے سے فائدہ اٹھانے کیلئے اقدامات کر رہا ہے اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)کے اندر ایک خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے تاکہ جڑی بوٹیوں اور ٹریڈیشنل میڈیسن میں مہارت حاصل کی جا سکے۔او آئی سی-کامسیٹیک کے کوآرڈینیٹر جنرل، پروفیسر ڈاکٹر محمد اقبال چودھری نے فوڈ-میڈیسن ہومولوجی کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ خوراک بیماریوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔گوادرپرو کے مطابق انہوں نے کہاکہ دنیا کے بیشتر حصوں میں خوراک اور دوا کو الگ سمجھا جاتا ہے، لیکن چینی نقطہ نظر مختلف ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی سخت حد نہیں بلکہ ایک تسلسل (اسپیکٹرم)موجود ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے شفا دینے والی خوراک کا تصور تیار کیا ہے، یعنی ایسی خوراک جو بیماریوں کا علاج اور ان سے بچاو¿ کر سکتی ہے جس پر مکمل تحقیق، درست مقدار، کلینیکل تصدیق اور سخت ریگولیشن موجود ہے۔گوادرپرو کے مطابق عالمی ادارہ صحت(ڈبلیوایچ او)کے ٹریڈیشنل میڈیسن کے ماہرین کے مشاورتی پینل کے رکن ڈاکٹر لیو ژنمن نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تعاون نے تحقیق، تربیت اور ادارہ جاتی روابط کو فروغ دیا ہے۔گوادرپرو کے مطابق کانفرنس میں میڈیسن پلانٹ، کلینیکل تحقیق، فوڈ سیفٹی اور غذائیت پر مبنی صحت کے حل سے متعلق تکنیکی سیشنز بھی شامل تھے، جن کا مقصد پاکستان اور چین کے درمیان مشترکہ تحقیق اور عملی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
پاکستان ، چین کا ہیلتھ سائنسز ، ٹریڈیشنل میڈیسن میں تعاون بڑھانے پر اتفاق


















