بیجنگ،واشنگٹن:(مشرق نیوز،بیورورپورٹ)ٹرمپ کی ملاقات،چینی صدر کا تائیوان تنازع پر انتباہ، حریف کی بجائے شراکت دار بننے کا مشورہ دےدیا۔
صدر ٹرمپ بیجنگ کے تاریخی دورے میں چینی صدر سے وفود کی سطح پر ملاقات کےلئے پیپلز ہال پہنچے تو والہانہ استقبال اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،دونوں کے درمیان ملاقات 2گھنٹے تک جاری رہی،ایران جنگ سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی صدر نے بیجنگ میں قدیم عبادت گاہوں کے مجموعے ،اہم سیاحتی مرکز ٹیمپل آف ہیون کا دورہ کیا، کچھ دیر بعد چینی صدر شی جن پنگ بھی پہنچے ،دونوں رہنماﺅں نے تصاویر بنوائیں،مرکزی حال کے سامنے تصویر بنواتے ہوئے ٹرمپ نے شی جن پنگ سے کہا ناقابل یقین حد تک زبردست جگہ ، چین خوبصورت ہے،قدیم عبادت گاہوں کا وسیع و عریض کمپلیکس وہ مقام ہے جہاں منگ اور چنگ سلطنتوں کے شہنشاہ قربانیاں پیش کرتے اور اچھی فصلوں کےلئے دعا کرتے تھے،میڈیا کے نمائندوں نے 2مرتبہ سوال کیا کیا دونوں ممالک کے صدور نے تائیوان پر بات کی ،ٹرمپ ،شی جن پنگ جواب دئیے بغیر ہی مندر کی جانب بڑھ گئے،صحافی نے پوچھا مذاکرات کیسے رہے تو ٹرمپ نے کہا انتظار کریں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا تمام عالمی بحرانوں کا حل صرف سفارت کاری ،مذاکرات میں ہے، اختلافات کے باوجود دونوں ممالک کو باہمی احترام ،پر امن بقائے باہمی کے اصولوں پر چلنا ہوگا، امریکی وفد کو چین میں خوش آمدید کہتے ہیں، چین ،امریکہ 2بڑی طاقتیں ، عالمی استحکام مشترکہ ہدف ،عالمی امن ،معاشی ترقی کو برقرار رکھنا دونوں ممالک کی تاریخی ذمہ داری ہے۔
شی جن پنگ نے کہا تائیوان تنازع امریکہ ،چین کے تعلقات میں سب سے اہم مسئلہ ہے، تائیوان کی آزادی ،امن ایک ساتھ نہیں چل سکتے، تجارتی جنگ میں کوئی فاتح نہیں، تائیوان کے مسئلے کو درست طریقے سے نہ سنبھالا گیا تو دونوں ملکوں میں تصادم ہوگا،امریکہ ،چین کی تجارتی ٹیموں کے درمیان گزشتہ روز ہونےوالے مذاکرات میں مجموعی طور پر متوازن ، مثبت نتائج حاصل ہوئے، کاروبار کےلئے چین کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔
چینی صدر نے کہا چین کی ترقی میں امریکی کمپنیوں کا بہت زیادہ کردار ،دونوں فریقوں کو فائدہ ہوا،باہمی تعاون مزید مضبوط بنانے کےلئے امریکہ کا خیر مقدم کرتے ہیں،دنیا ایران تنازع ، عالمی سپلائی چین کے سنگین چیلنجز سے گزر رہی ،تیزی سے ہونےوالی تبدیلیاںصدی میں نہیں دیکھی گئیں، بین الاقوامی صورتحال مسلسل تغیر پذیر اور ہنگامہ خیز ہے، کیا ملکر عالمی چیلنجوں کا مقابلہ اور دنیا کو استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا اپنی دنیا ،عوام کیلئے روشن مستقبل تعمیر کر سکتے ہیں؟ یہ سوالات ہیں جن کا جواب بڑے ممالک کے رہنماﺅں کی حیثیت سے دینا ہے۔
شی جن پنگ نے کہا میرا ماننا ہے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سے زیادہ مشترکہ مفادات موجود ،مستحکم دوطرفہ تعلقات پوری دنیا کےلئے فائدہ مند ہیں، چین ،امریکہ دونوں تعاون سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور تصادم سے نقصان ہوگا، ایک دوسرے کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار بننا چاہئے،دونوں ممالک ایک دوسرے کےساتھ ملکر چلنے کا صحیح راستہ تلاش کریں۔
صدر ٹرمپ نے کہا صدر شی جن پنگ سے ملاقات باعث اعزاز،گفتگو بہت اچھی رہی،دورے پر دنیا کے بہترین کاروباری رہنماﺅں کو ساتھ لائے ، بعض لوگوں نے ملاقات کو اب تک کی سب سے بڑی سمٹ قرار دیا ،صدر شی جن پنگ کےساتھ تعلقات ہمیشہ سے انتہائی شاندار رہے ہیں۔
امریکی صدر نے کہاجب بھی مشکلات آئیں ملکر حل کیا، میں آپ کو اور آپ مجھے کال کرتے تھے، لوگ نہیں جانتے جب بھی کوئی مسئلہ درپیش ہوا، جلدی حل کر لیا، ہر ایک سے یہی کہتا ہوں چینی صدر عظیم رہنما ہیں۔
دریں اثنا ترجمان وائٹ ہاوس نے کہا صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ملاقات اچھی رہی،آبنائے ہرمز کھلی رکھنے پر اتفاق کیا گیا،دونوں رہنماوں نے کہا توانائی کی آزادانہ ترسیل کیلئے آبنائے ہرمز کھلی رہنی چاہئے، ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیئے جائیں گے، ٹرمپ نے چینی صدر کو ستمبر میں دورہ وائٹ ہاوس کی دعوت دےدی۔
چینی صدر کا ٹرمپ کو تائیوان تنازع پر انتباہ، شراکت دار بننے کا مشورہ دےدیا



















