تہران: (مشر ق نیوز)ایران نے ایرانی ٹینکر اور جزیرہ قشم میں حالیہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کارروائیوں میں کویت و بحرین نے بالواسطہ طور پر کردار ادا کیا جس کے باعث دونوں ممالک براہ راست ذمے دار ہیں۔
وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا امریکی حملے جنگ بندی کی مفاہمت، بین الاقوامی قوانین اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی خلاف ورزی ہیں،کویت ،بحرین کی سر زمین کو ایران کےخلاف امریکی فوجی کارروائیوں کےلئے استعمال کیا گیا، دونوں ممالک معاملے میں براہ راست اور واضح ذمے داری سے بری نہیں ہو سکتے،امریکہ کو حملوں کےلئے فضائی حدود یا زمین دینے والے ممالک کےخلاف دفاع کا حق رکھتے ہیں،مستقبل میں ہونے والی کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرینگے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہاامریکیوں نے ثابت کر دیا سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں،مسلح افواج خصوصا پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،پاسداران انقلاب نے کہاامریکہ کو سبق ملا گیا،آئندہ ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، آبنائے ہرمز کے امن و استحکام کو متاثر کرنے کی کسی بھی کوشش کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
دریں اثنا حملوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر،، فرانس، ترکیہ، قطر، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے رابطہ کیا،خطے کی سکیورٹی صورتحال و حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
علاوہ ازیں ایران نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت دیگر امریکی رہنماﺅں کے قتل کی منصوبہ بندی کے الزامات مسترد کردئیے،وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کے سینٹ میں دئیے گئے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہاہر الزام ایک اعتراف ،مظلوم بن کر رونا دھونا ایران کےخلاف سفاکانہ جنگی جرائم نسل کشی کے اقدامات اور انسانیت کےخلاف جرائم کو کوچھپا نہیں سکتا۔
ایران نے ٹرمپ ودیگر رہنماﺅں کے قتل کی منصوبہ بندی الزامات مسترد کردئیے


















